چینی مافیا،کسان،حکومت

چودھری فرحان شوکت ہنجرا 
ایک مرتبہ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا چینی مافیا کے وارے نیارے اور عوام بیچارے سستی چینی کیلئے رل گئے چینی صرف پینا فلیکس میں دکھائی دیتی رہی نہ سستے سہولت بازار لگے نظر آئے ہاں وزیر اعظم سے وزیر فوڈ سیکیورٹی کے چینی سستی کرنے کے بلنگ و بانگ دعوے اور بیانات میڈیا کی زینت بنتے رہے لیکن عوام کو چینی 130روپے کلو کے حساب سے نہیں مل سکی جو حکومت اپنے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کروا سکی اس سے بہتری کی توقع رکھنا خود کو دھوکے میں رکھنے کے مترادف ہے شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی برآمد کرنے کیلئے واشگاف الفاظ میں حکومت اور سرکاری اداروں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ملک میں چینی کی قیمت فی کلو 140روپے سے ایک آنے کا بھی اضافہ نہیں ہوگا اب ملک کے مختلف جگہوں پر چینی 170 سے 180 روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے جس پر شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وہ نہیں بلکہ چینی مہنگی ہونے کے زمہ دار چینی اسٹاکسٹ ذخیرہ اندوز اور سٹہ باز ہیں کیا عیاری ہے مکاری ہے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ صاحب کا کہنا بالکل درست ہے کہ حکومت چینی مافیا کی سرپرست ہے پہلے چینی مافیا کو ایکسپورٹ کی اجازت اور اب امپورٹ کے نوازشات کی جا رہی ہیں حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے سرکاری ادارے مہنگائی روکنے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھا سکے ہیں مارکیٹوں بازاروں میں مہنگائی کے جھکڑ چل رہے ہیں ناجائز منافع خوروں کو کھلی چھٹی ہے۔
وفاقی حکومت چینی درآمد کرنے کی اجازت دینے کو تیار وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق شکر درآمد کرنے کا فیصلہ چینی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کیلئے کیا گیا "اسے کہتے ہیں نیا جال لائے پرانے شکاری"پہلے چینی برآمد کروائی اب چینی درآمد کریں گے اس لین دین میں سرکاری بابووں سیاسی اشرافیہ شوگر مافیا کے وارے نیارے ہو جائیں گے بیچارے عوام کو یہی طفل تسلیاں دی جائیں گی کہ ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے مصنوعی ناجائز منافع خوروں ذخیرہ اندوزوں پر زمین تنگ کر دی جائے گی حکومت مہنگائی کا خاتمہ کرکے ہی دم لے گی وغیرہ وغیرہ۔
کوئی چینی ذخیرہ اندوز اگر گرفت میں آیا ہے تو مطلع کیا جائے تاکہ ارباب اقتدار و اختیارات والوں کی تحسین میں قصیدے بیان کریں لیکن حکومت سرکاری ادارے قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت خفیہ اداروں کے ہوتے ہوئے ذخیرہ اندوز ناجائز منافع خوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوسکے تو سمجھ جائیں دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے۔
ملک میں شوگر سیکٹر میں پہلے بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری ہوتی تھی۔ملک میں شوگر انڈسٹری پر سیاسی اثرورسوخ نمایاں ہے ارکان سمیت کئی سیاست دان شوگر ملز مالکان ہیں  باقی عقل مندوں کیلئے اشارہ کافی ہے کہ جب پنجاب سندھ میں حکمران فیملی ارکان اسمبلیز اور سیاست دانوں کی شوگر ملز ہونگی تو پھر شوگر سیکنڈل پر کون سی انکوائری اور کون بے نقاب ہوگا کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔
دوسری طرف ملک میں گندم کاشت کرنے والے کاشتکار ایک مرتبہ پھر تذبذب کا شکار ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے گندم کی سپورٹ پرائس کا اعلان نہیں کیا سیزن 2024 میں حکومت پنجاب کی جانب سے گندم کی سپورٹ پرائس مقرر اور کسانوں سے گندم خریدنے کے اعلان کے باوجود نہ تو کسانوں سے گندم خریدی اور نہ ہی کسانوں کو گندم کی مقرر کردہ قیمت 3900روپے فی من ملی بلکہ چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ کسان برباد ہو گئے اور حکمران کہتے رہے کہ عوام کو سستی روٹی دیں گے افسوس صد افسوس اور ان حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلیز کا جنہوں نے کسانوں کے معاشی نقصان پر اپنی حکومت کو کچھ نہ کہا کوئی احتجاج کیا بلکہ حکومت پنجاب کے زراعت کسان دشمن اقدامات پر اسے سپورٹ کیا 
کسان حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق کھاد ڈیزل زرعی ادویات بیج سمیت دیگر پیداواری لوازم خریدتا ہے اسی طرح صارفین عام مارکیٹ میں کھانے پینے کی اشیاء￿  پر قیمتیں لکھی ہوتی ہیں خریدتے ہیں جب کسان ہر چیز حکومت سرکاری اداروں کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر خریدتا ہے تو حکومت اس کی گندم کی قیمت کیوں مقرر کرنے سے گریزاں ہے یہ آئی ایم ایف کی شرط کوئی معنی نہیں رکھتی یہ فوڈ سیکیورٹی کا معاملہ ہے اور ہر ملک کی حکومت یہ حق رکھتی ہے کہ کون سی فصل اس کی فوڈ سیکیورٹی ہے حکومت ہوش کے ناخن لے اور گندم کی سپورٹ پرائس کا اعلان کرے
دوسری طرف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے پاکستان سے متعلق اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اکتوبر 2024 اور فروری 2025۔ کے دوران اوسط سے کم بارشوں کی وجہ سے گندم کی اہم فصل کی ابتدائی نشوونما منفی اثرات سے دوچار ہوئی ہے جو کل کاشت کیے گئے رقبے کا 20 فیصد ہے پاکستان روائتی طور پر گندم برآمد کرنے والا ملک ہے لیکن گزشتہ 6 برس میں اسے غیر معمولی گندم درآمد کرنا پڑی ہے 
کسان اتحاد پاکستان نے وزیراعظم کو خط لکھ کر گندم کی قیمت 4200 روپے فی من مقرر کرکے اس کی خریداری یقینی بنانے کا تقاضا کیا ہے خط میں یاددہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستان اربوں ڈالر کی گندم درآمد کرنے کی سقت نہیں رکھتا اور اگر اس سال بھی حکومت نے کسانوں سے گندم نہ خریدی تو ملک میں غذائی تحفظ سنگین نتائج سے دوچار ہوگا 
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن حکومت کو بار بار توجہ دلا رہے ہیں کہ پچھلے سال گندم کے کاشتکاروں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے گندم کاشت کرنے والے کسانوں کو حکومت پنجاب نے دھوکا دیا اور نہ تو ان سے گندم کی خریداری کی اور نہ ہی کسانوں کو حکومت کی مقرر کردہ گندم کی قیمت بھی نہیں ملی یہ کسانوں پر وفاقی اور پنجاب حکومت کا کھلا ظلم تھا صرف جماعت اسلامی نے کسانوں کے ساتھ ناانصافی پر آواز بلند کی ہے کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین ایڈووکیٹ نے بھی گندم کی امدادی قیمت میں کسانوں کے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کسانوں کو گندم کی فصل کی قیمت صحیح نہ ملی تو ملک میں خوراک کے بحران کے زمہ دار حکمران ہونگے۔