امدادی سامان کی ترسیل میں اسرائیلی رکاوٹیں، بھوک و پیاس برقرار، 15 ہزار فلسطینیوں کو فوری طبی علاج کی ضرورت ہے
غزہ(آئی این پی ) اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے باوجود غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جارہا ہے ،اسرائیلی فوج غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہے اور سیز فائر کے 2 ہفتے بعد بھی بھوک و پیاس برقرارہے ۔ اسرائیل کی جانب سے امداد کی فراہمی پر مسلسل پابندیوں کے باعث فلسطینی خاندان خوراک، پانی اور پناہ گاہ کیلئے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔الجزیرہ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ غزہ کے جنوبی، وسطی اور شمالی تمام علاقوں میں لوگ ایک جیسے مصائب سے دوچار ہیں۔ متعدد خاندان خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ کچھ نے قبرستانوں میں پناہ لی ہے کیونکہ یہی جگہیں اب نسبتا محفوظ اور خالی ہیں۔ایک مقامی خاندان ابو عمارہ کے مطابق ان کے 12 افراد ایک چھوٹے خیمے میں رہ رہے ہیں، اور اکثر اوقات دن گزر جاتا ہے مگر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے کیونکہ ان کا علاقہ اسرائیلی فوج کے مطابق غیرمحفوظ زون میں آتا ہے