امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت حالیہ دو ماہ کے دوران 1.1 ارب ڈالر سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔
یہ کمی عالمی جریدے فوربز کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کمپنی، ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (TMTG) کے شیئرز کی شدید گراوٹ کی وجہ سے ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2023 میں ٹرمپ کی مجموعی دولت 3.7 ارب ڈالر تھی، جو کم ہو کر اب 2.6 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے TMTG کے شیئرز کی قیمت 10.18 ڈالر تک گر گئی، جس سے ان کی دولت کو بڑا نقصان پہنچا۔فوربز کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں اچانک مندی نے بھی ٹرمپ کی دولت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔
اس سے قبل، 2022 سے ستمبر 2023 تک، ٹرمپ کی دولت میں 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا تھا، جس کی وجہ ان کی فیملی کی کرپٹو سرمایہ کاری تھی، اور اس اضافے کے بعد وہ فوربز کی امریکہ کے 400 امیر ترین افراد کی فہرست میں 201ویں نمبر پر آگئے تھے۔مجموعی طور پر، حالیہ گراوٹ ان کی مالی حالت میں نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور اسٹاک کے ساتھ ساتھ کرپٹو اثاثوں کی قیمتوں میں کمی نے ان کی دولت کو متاثر کیا ہے۔