عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی کے بعد استحکام دیکھا گیا، تاہم ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق متضاد اطلاعات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کردیا ہے۔
مہنگائی کے خدشات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال نے سونے سمیت دیگر اہم مالیاتی اثاثوں کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز سونا تقریباً 4,115 ڈالر فی ٹرائے اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ ہفتے کے آغاز سے اب تک اس کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی جاچکی تھی، جس کے بعد مارکیٹ میں قیمتوں کو استحکام ملتا دکھائی دیا۔ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمت کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے، جن میں جغرافیائی سیاسی صورت حال، مہنگائی کی توقعات، امریکی ڈالر کی قدر اور شرح سود سے متعلق فیصلے اہم ہیں۔ موجودہ صورت حال میں ایران جنگ کے ممکنہ خاتمے سے متعلق غیر واضح اطلاعات نے سرمایہ کاروں کے لیے مستقبل کی سمت کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران جنگ ختم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایک جانب تنازع کے خاتمے کے لیے معاہدے کے قریب پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تو دوسری جانب ایک سفارت کار نے ان اطلاعات کو غلط قرار دے دیا۔ اس صورت حال نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت کو برقرار رکھا۔دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی ان اطلاعات سے متاثر ہوئیں۔ معاہدے کے قریب ہونے کی خبروں کے بعد منگل کو تیل کی قیمت اپنی پانچ ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آگئی تھی، تاہم بعد ازاں ان اطلاعات کی تردید کے بعد قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔
امریکی شرح سود اور سونے کی قیمت کا تعلق
سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مالیاتی پالیسی پر بھی مرکوز ہے۔ اگر مہنگائی کے خدشات کے باعث شرح سود بلند رکھنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو سونے کی قیمت پر دباؤ پڑ سکتا ہے، کیونکہ سونا کوئی سود نہیں دیتا اور بلند شرح سود کی صورت میں سرمایہ کار دیگر منافع بخش اثاثوں کو ترجیح دے سکتے ہیں۔اس کے برعکس شرح سود میں کمی کی توقعات سونے کی طلب میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی لیے سرمایہ کار امریکی معاشی اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے بیانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں سونے کی آئندہ قیمتوں کا امکان
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق سفارتی پیش رفت، خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی شرح سود کے بارے میں توقعات سونے کی قیمتوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔اگر خطے میں کشیدگی کم ہونے کے واضح اشارے ملتے ہیں تو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی طلب متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم، تنازع میں مزید شدت یا عالمی معیشت کے حوالے سے خدشات بڑھنے کی صورت میں سونے کی طلب میں اضافہ بھی ممکن ہے۔