امریکہ اور یوکرین کا نئے اور بہتر امن فریم ورک پر اتفاق ،روس سے امن معاہدے میں یوکرین کی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہوگا
برسلز ،جنیوا(آئی این پی )یورپی ممالک نے امریکا کے یوکرین امن منصوبے کا ترمیم شدہ مسودہ پیش کر د یا جبکہ امریکا اور یوکرین نے پرانے منصوبے میں تبدیلیوں پر اتفاق کرتے ہوئے ریفائنڈ پیس فریم ورک تیار کیا ہے، دونوں ممالک کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ آنے والے دنوں میں امن منصوبے پر مزید کام جاری رکھا جائے گا، منصوبے پر براہِ راست بات چیت کیلئے یوکرینی صدر کے چند روز میں امریکا کے دورے کا امکان ہے۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق یورپی ممالک نے امریکا کے مجوزہ منصوبے میں ترمیم کرتے ہوئے یوکرین کی افواج کی زیادہ سے زیادہ حد میں اضافے کی تجویز پیش کی ہے، ساتھ ہی علاقائی سمجھوتوں کے معاملے پر بھی امریکی موقف کو چیلنج کیا ہے۔یورپی دستاویز کے مطابق تجویز میں کہا گیا ہے کہ مکمل امن قائم نہ ہوجانے تک یوکرینی فوج کی حد 8 لاکھ رکھی جائے جبکہ امریکی منصوبے میں فوج کی حد 6 لاکھ تک محدود کرنے تجویز دی تھی۔امریکی منصوبے میں شامل بہت سے نکات پر یورپی ممالک کے اعتراضات کے بعد نئی تجاویز پر مشتمل یہ دستاویز برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے تیار کی ہے۔ مسودے میں امریکی تجاویز کو بنیاد بناتے ہوئے مختلف نکات کو حذف، ترامیم یا تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ روس اور یورکرین کے علاقائی تبادلوں پر مذاکرات لائن آف کنٹیکٹ سے شروع ہوں گے، بجائے اسکے کہ پہلے سے طے کر لیا جائے کہ کچھ علاقے ڈی فیکٹو روسی تصور کیے جائیں، جیسا کہ امریکی تجویز میں شامل ہے۔یورپی مسودے میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ یوکرین کو نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی سیکیورٹی گارنٹی فراہم کی جائے۔ اسکے علاوہ منجمد روسی اثاثوں کے استعمال سے متعلق امریکی تجویز پر بھی اعتراض کیا گیا ہے