آج ہر صور ت احتجا ج ہوگا:پی ٹی آئی(جو اسلام آباد آئیگا واپس نہیں جائیگا:وزیرداخلہ)

محسن نقوی کا بیرسٹرگوہر سے رابطہ، دھرنے یا ریلی کی اجازت دینے سے انکار‘ عدالتی احکامات کے پابند ہیں:وزیرداخلہ‘ مشاورت کے بعد جواب دوں گا :چیئرمین پی ٹی آئی
 وزیراعلی ہائوس پشاور میں پی ٹی آئی کا اجلاس ‘عارف علوی بھی شریک ہوئے‘ احتجاج ملتوی نہیں کیا جائے گا، ڈی چوک پر دھرنا ہوگا، تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی:اجلاس میں فیصلے
ڈی آئی خان و جنوبی اضلاع کے قافلے ہکلہ انٹرچینج سے موٹروے پر مرکزی قافلے میں شامل ہوں گے، گنڈا پور صوابی سے قافلے کی قیادت کرینگے، اسلام آباد پہنچنے کیلئے 2 سے 3 دن لگیں گے ‘کارکنوں کو احتیاطی تدابیر کی ہدایت

 مذاکرات بانی کی رہائی کے بعد ہوں گے، ہر صورت ڈی چوک پہنچیں گے، عمران خان کی رہائی تک اسلام آباد میں رہیں گے ، بانی پی ٹی آئی کا جو حکم ملا ہے اس پر ہر صورت میں عمل کروں گا: وزیراعلی علی امین گنڈا پور

 پشاور‘اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف نے آج کے احتجاج کا فیصلہ برقرار رکھنے پر اتفا ق کرتے ہوئے ہر صورت اسلام آباد کی جانب مارچ اور ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان کردیا۔ ۔ذرائع کے مطابق پشاور میں وزیراعلی ہائوس میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کااجلاس چیئرمین بیرسٹرگوہر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزیراعلی خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپور،، سابق صدر عارف علوی، شبلی فراز اسد قیصر، شیخ وقاص اکرم اور بیرسٹر سیف سمیت پارٹی کے دیگر رہنما بھی شریک ہوئے ۔پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے اجلاس کو حکومت کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کو بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور کی بانی سے ملاقاتوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔اجلاس میں اسلام آباد مارچ کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی قیادت نے فیصلہ کیا کہ احتجاج ہر صورت ہوگا، ڈی چوک پر دھرنا ہوگا، تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ آئین پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، کسی صورت سرنڈر نہیں کریں گے، 24 نومبر کو پوری قوم سڑکوں پر ہوگی۔ تمام رکاوٹیں توڑ کر ڈی چوک پہنچیں گے ۔ذرائع کے مطابق حتمی مشاورت میں فیصلہ کیا گیا 24 نومبر کو پی ٹی آئی کے قافلے اسلام آباد روانہ ہوں گے، اسلام آباد پہنچنے کے لیے 2 سے 3 دن لگیں گے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے ورکرز کو 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی ہدایت دی ہے، اسلام آباد پہنچ کر کارکن دھرنا دیں گے‘عمر ایوب ہزارہ انٹر چینج پر مرکزی قافلے میں شامل ہوں گے۔پشاور اور خیبر سے آنے والے قافلے انٹر چینج پر اکھٹے ہوں گے۔ چارسدہ، نوشہرہ اور مردان کے قافلے بھی راستے میں شامل ہوں گے، جبکہ قافلے ریسٹ ایریا صوابی میں جمع ہوں گے۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور صوابی سے مرکزی قافلے کی قیادت کریں گے، اور ڈی آئی خان و جنوبی اضلاع کے قافلے ہکلہ انٹرچینج سے موٹروے پر قافلے کے ساتھ شامل ہوں گے۔ قافلے کی روانگی کی کوشش صبح 10 بجے کی جائے گی‘وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پو ر نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہاہے حکومت سے مذاکرات کا آغاز بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بعد ہو گا، بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جو حکم ملا ہے اس پر ہر صورت عمل کروں گا اورڈی چوک پہنچیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کا جو حکم ملا ہے اس پر ہر صورت میں عمل کروں گا، میرا اختیار بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے جو وہ کہیں گے کروں گا، میں اور پی ٹی آئی کارکن ہر صورت میں ڈی چوک پر پہنچیں گے۔ ان کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی اور دیگر قیدیوں کی رہائی اور مطالبات کی منظوری تک اسلام آباد میں رہیں گے‘قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرکے انہیں دھرنے یا ریلی کی اجازت نہ دینے سے آگاہ کردیا۔ذرائع کے مطابق اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے پابند ہیں، کسی جلوس، دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔ وزیرداخلہ نے بیرسٹر گوہر کو بیلاروس کے80رکنی وفد کی 24 نومبر سے 27 نومبر تک کی مصروفیات وتفصیلات سے آگاہ کیا۔ جس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی مشاورت کے بعد آپ کو حتمی رائے سے آگاہ کروں گا۔ پولیس لائنز اسلام آباد کے دورے کے دوران وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس کو ہدایت کی ہے اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا،پولیس فورس نے ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرنا ہے اور امن کو یقینی بنانا ہے، کسی کو اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔تفصیل کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتہ کی علی الصبح پولیس لائنز اسلام آباد کا دورہ کیا اور قیام امن کے لیے اسلام آباد پولیس کی جانفشانی کی تعریف کی‘انہوں نے کہا آج بیلاروس کا وفد اور کل بیلاروس کے صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، دورے کے پیش نظر اسلام آباد کو ہر صورت محفوظ رکھنا ہے۔ان کا کہنا تھا پولیس فورس نے ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرنا ہے اور امن کو یقینی بنانا ہے، اسلام آباد کے امن و امان کو خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کرنا ہے، اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والیکسی شخص کو واپس نہیں جانے دینا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا ہمیں آپ اور آپ کی زندگیاں بہت عزیز ہیں، دوران ڈیوٹی تمام حفاظتی سامان پہننا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں، پولیس فورس نے ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹس پہن کر فرائض سرانجام دینے ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں گے۔