(9 مئی کے بعد دھرنا گرو ہ کو احتجاج کی اجازت دینا خطرناک)عمران خان کی رہائی کا واحد راستہ قانونی چارہ جوئی : احسن اقبال

حکومت کے پاس چھوڑنے کا انتظامی اختیار نہیں، عدالتوں میں جاکر اپنی بے گناہی ثابت کریں، عدالتیں انہیں رہا کرتی ہیں تو رہائی ممکن ہوجائے گی
القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں انہیں معلوم ہے اتنے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ عمران خان کو سزا ہوگی،وفاقی وزیر کا پریس کانفرنس سے خطاب 
 لاہور(آئی این پی )وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ نو مئی کے بعد دھرنا گرو کو احتجاج کی اجازت دینا خطرناک ہے،عمران خان کی رہائی کا واحد راستہ قانونی چارہ جوئی ہے، وہ عدالتوں میں جاکر اپنی بے گناہی ثابت کریں، اگر عدالتیں انہیں رہا کرتی ہیں تو ان کی رہائی ممکن ہوجائے گی، انہیں خود کو مقدمات سے کلیئر کرانا ہوگا، مقدمات سے کلیئر ہوئے بغیر حکومت کسی انتظامی اختیار سے انہیں رہا نہیں کرسکتی۔لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ حکومت آج ایک صورت حال کا سامنا کر رہی ہے ، پی ٹی آئی ملک میں افراتفری پیدا کر کے معاشی بحالی کو ناکام بنانا چاہتی ہے ، حکومت نے ہمیشہ ان کے ساتھ نرمی برتی لیکن اس کا نقصان نو مئی جیسا واقعہ ہوا۔احسن اقبال نے کہا کہ نو مئی کے بعد اس گرو سے خیر کی توقع رکھنا رسک والی بات ہے، امید ہے ان کا دھرنا آج ناکام اور حالات ٹھیک ہوجائیں گے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری انتظامیہ کی جانب سے نہیں کی گئی جو رہائی کا مطالبہ مان لیا جائے، ان کے مقدمات عدالت میں ہیں، حکومت کے پاس چھوڑنے کا انتظامی اختیار نہیں ہے۔ امید ہے آج پی ٹی آئی کا ناٹک بند ہوگا۔ ملک کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات ناگزیرہوجاتے ہیں۔ لوگوں کی جان و مال اورغیرملکی سفارت خانوں کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت یہ اقدامات خوشی سے نہیں اٹھا رہی، اس طرح کے احتجاج اوردھرنوں سے کچھ نہیں ہوگا، جھوٹ اورانتشارپھیلانے کا مقصد ملک کی ترقی کو روکنا ہے۔ سیاسی جماعت پاکستان میں انتشار، افراتفری پیدا کرنا چاہتی ہے۔وفاقی وزیرمنصوبہ بندی نے کہا کہ کے پی حکومت کی اپنے صوبے میں دہشتگردوں پرکوئی نظر نہیں، راستوں کی بندش کی وجہ سے عوام کو ہونے والی تکلیف کا احساس ہے۔ نومئی کو پی ٹی آئی نے وہ کچھ کیا جو دہشتگرد بھی نہیں کرتے۔انہوں نے کہا عمران خان نے مجھ سمیت مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کو انتقامی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا، ہم نے ان جھوٹے اور بوگس مقدموں کے ردعمل میں امریکی کانگریس میں جاکر ان کے کانگریس مین اور سینیٹرز کے پاں پکڑے تھے، نہ ہم نے برطانوی ہائوس آف لارڈز میں ان کے لارڈز کے آگے ہاتھ باندھ کر استدعا کی تھی، نہ ہی ہم نے اقوام متحدہ یا کسی بین الاقوامی فورم پر جاکر پاکستان کے خلاف اپنا مقدمہ پیش کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے گھر کی جنگ گھر کے اندر قانون اور عدالت کے ذریعے لڑی تھی اور پھر ایک ایک کرکے ہمیں ان مقدمات میں ضمانتیں ملیں اور عمران خان کے دور میں ملیں اور وہ مقدمات جھوٹے ثابت ہوئے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کبھی عمران خان سے مطالبہ نہیں کیا تھا کہ ہمیں رہا کیا جائے، ہم نے اپنے کیس عدالتوں میں لڑے تھے، انہوں نے کہاکہ اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں اور ان کے خلاف مقدمات جھوٹے ہیں تو اس کا راستہ یہ نہیں ہے کہ وہ ملک کے اندر توڑ پھوڑ کریں اور ملک کی بدنامی کے لیے بین الاقوامی سطح پر مہم چلائیں، اسکا راستہ یہ ہے کہ آپ عدالتوں میں اپنی بے گناہی پیش کریں۔انہوں نے کہاکہ اگر عمران خان کے خلاف درج توشہ خانہ کیس اور القادر ٹرسٹ کیس کا جائزہ لیں تو ان میں ناقابل تردید شواہد موجودہیں، اگر آپ ان مقدمات میں بے گناہ تو آپ کا فرض ہے کہ اپنے وکیلوں کو کہیں کہ ان مقدمات کا جلد از جلد مکمل کریں تاکہ ان مقدمات کا جھوٹ سامنے آسکے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ ان مقدمات کے ٹرائلز کا جائزہ لیں تو عمران خان اور ان کے وکلا کی ٹیم مسلسل ان مقدمات کے ٹرائلز میں التوا کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے، انہوں نے فارن فنڈنگ کیس سالوں تک مختلف عدالتوں میں لٹکایا کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ ٹرائل ہوگا تو ہم گناہ گار پائے جائیں گے، اسی طرح القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں بھی انہیں معلوم ہے کہ جب ٹرائل مکمل ہوگا تو ان میں اتنے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ عمران خان کو سزا ہوگی۔