راستوں کی بندش پر اشیاضروریہ کا بحران ،کرائے دگنے ،جہاز کا ٹکٹ 80 ہزار کا
کوئٹہ میں انٹرنیٹ سروس معطل، ٹرین سروس 12 روز بعد بھی بحال نہ ہوسکی
کوئٹہ(خصوصی رپورٹ)سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد بلوچستان میں حالات معمول پر نہ آسکے، راستوں کی بندش سے اشیائے خورونوش کا بحران پیدا ، شہری مصنوعی مہنگائی سے پریشان ہوگئے ،12 روز بعد بھی ٹرین سروس بحال نہ ہوسکی، متبادل راستوں سے کراچی جانے والی گاڑیوں کے کرائے دگنے ہوگئے جبکہ جہاز کا یکطرفہ ٹکٹ 70 سے 80 ہزار میں بکنے لگا، کوئٹہ میں 4 دن سے انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے اور شہر کا ملک بھر سے رابطہ منقطع ہے۔11 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد ریل گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ بدستور معطل ہے، راستوں کی بندش اور غیر محفوظ سفر نے بسوں کے ذریعے جانے والوں کا سفر بھی محال کردیا اور گھنٹوں کا سفر دنوں میں طے ہونے سے لوگ اذیت کا شکار ہیں۔ بولان کے راستے کراچی جانے کا 4 ہزار کا ٹکٹ 7 سے 8 ہزار کردیا گیا، راستوں کی بندش پرپھل سبزیاں اور باہر سے آنے والا سامان مہنگا ہوچکا ہے۔