درخواست گزار سینیٹ کے ممبر ہیں، پارلیمنٹ میں اس معاملے کو اٹھا سکتے ہیں، وفاقی حکومت انکوائری کمیشن قائم کرسکتی ہے:پشاورہائیکورٹ
فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے‘کیا عدالتوں کا بنیادی کام آئین کا تحفظ اور عوامی حقوق کی پاسداری یقینی بنانا نہیں؟ ایمل ولی
پشاور(آئی این پی )پشاور ہائی کورٹ نے اے این پی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی کی دہشتگردوں کی دوبارہ آبادی کی انکوائری کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست خارج کردی۔دہشت گردوں کی دوبارہ آباد کاری کے خلاف دائر درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔اس میں کہا گیا کہ درخواست گزار سینیٹ کے ممبر ہے، پارلیمنٹ میں اس معاملے کو اٹھا سکتے ہیں، وفاقی حکومت انکوائری کمیشن قائم کرسکتی ہے، درخواست گزار کا جو دعوی ہے، دہشتگردوں کی دوبارہ آباد کاری گزشتہ منتخب حکومت کا فیصلہ تھا۔فیصلے کے مطابق یہ درخواست اب زائد المیعاد ہوچکا ہے‘دریں اثناء ایمل ولی خان نے کہا ہم اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لیکر جائیں گے تاکہ اس غیر منصفانہ فیصلے کو چیلنج کیا جا سکے۔انہوں نے بتایاکہ 40 ہزار دہشتگردوں کی دوبارہ آبادکاری سے خیبرپختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کردیا گیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے اپنے اس فیصلے میں اس عمل کو محض ایک "انتظامی فیصلہ" قرار دیکر اس کی توثیق کردی ہے۔عدالت نے دہشتگردوں کی دوبارہ آبادکاری جیسے سنگین مسئلے پر عوامی مفاد کی بجائے حکومتی پالیسی کو تحفظ فراہم کیا۔اے این پی کے صوبائی صدر کاکہنا تھا کہ کیا عدالتوں کا بنیادی کام آئین کا تحفظ اور عوامی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا نہیں ہے؟ یہ نہ صرف قابل افسوس بلکہ پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کیلئے سنگین خطرات کا پیش خیمہ بھی ہے۔فیصلہ دینے والوں کو خبر ہو کہ اس انتظامی فیصلے کی قیمت پختونخوا اور بلوچستان کے عوام آج اپنے خون سے ادا کررہے ہیں، اے این پی کسی بھی ایسی پالیسی کو تسلیم نہیں کرے گی جو پختون قوم کی سلامتی اور امن کے خلاف ہو۔