جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس، عمران خان کی پیشی کے لیے عدالت نے وزارتِ قانون کو دوبارہ خط لکھ دیا

جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس، عمران خان کی پیشی کے لیے عدالت نے وزارتِ قانون کو دوبارہ خط لکھ دیا

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

عدالت نے ایک بار پھر وزارتِ قانون کو خط ارسال کیا ہے، جس میں عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے یا جیل ٹرائل کی اجازت دینے سے متعلق جواب طلب کیا گیا ہے۔یہ دوسرا موقع ہے کہ عدالت کی جانب سے وزارتِ قانون کو باقاعدہ خط لکھا گیا ہے، تاہم ابھی تک کسی قسم کا جواب موصول نہیں ہوا۔

سماعت کی کارروائی:
عمران خان کی عدم پیشی کے باعث آج کیس میں کوئی باضابطہ کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔
تاہم پی ٹی آئی کے دیگر رہنما سینیٹر شبلی فراز، راجا بشارت اور علی نواز اعوان عدالت میں موجود رہے۔
ان کے ہمراہ وکلا سردار محمد مصروف خان ایڈووکیٹ، مرتضیٰ طوری اور دیگر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
مقدمات کا پس منظر:
بانی پی ٹی آئی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف تھانہ رمنا میں جوڈیشل کمپلیکس حملے سے متعلق دو مقدمات درج ہیں۔
ان مقدمات کی قانونی کارروائی تاحال جاری ہے۔
عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے وزارتِ قانون کے جواب کا انتظار کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جواب موصول ہونے کے بعد ہی عمران خان کی پیشی یا جیل ٹرائل سے متعلق فیصلہ کیا جا سکے گا۔