عمران خان کے خلاف 6 مقدمات، عدالت نے پیشی کے لیے ویڈیو لنک یا پیشی کا حکم دیا

عمران خان کے خلاف 6 مقدمات، عدالت نے پیشی کے لیے ویڈیو لنک یا پیشی کا حکم دیا

اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کے خلاف چھ مقدمات کی سماعت کی، جس میں بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے۔

عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے عمران خان کو عدالت یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف سابق وزیر شاہنواز رانجھا کو قتل کرنے کی کوشش سمیت دیگر پانچ مقدمات کی سماعت ہوئی۔ سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عمران خان نے عدالت میں پیش ہو کر ریلیف لیا تھا، اور مقدمات کے اندراج کے بعد سے کوئی درخواست داخل نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پیش کیا جائے، اور اگر وہ پیش نہیں ہو سکتے تو جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو پیش کیا جائے۔

جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ کس کی ضمانت خارج ہوئی ہے، اور سلمان صفدر نے چار آپشنز دیے۔ پراسیکیوشن نے تاریخ مانگ لی تاکہ وہ تیاری کر سکے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ مقدمات میں حکومت کی دلچسپی نہیں اور تفتیشی افسران موجود نہیں ہیں۔عدالت نے 24 فروری کو تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے، عمران خان کو پیش کرنے کا حکم دیا اور اگلی سماعت پر تمام تفتیشی افسران کو ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں، عدالت نے سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل، جعلی رسیدوں سمیت متعدد مقدمات درج ہیں، اور بشریٰ بی بی کے خلاف بھی توشہ خانہ جعلی رسیدوں پر مقدمہ درج ہے۔