نادرا آباد میں گزشتہ رات پیش آنے والی 45 ہزار روپے کی مبینہ ڈکیتی کا ڈراپ سین ہو گیا۔
ابتدائی طور پر 15 پر کال کرکے پولیس کو طلب کیا گیا، مگر تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ خود کال کرنے والا شخص ہی اس فرضی واردات کا مرکزی کردار تھا۔
ملزم نے خود ڈکیتی کا جھوٹا ڈرامہ رچایا
ایس پی کینٹ قاضی علی رضا کے مطابق:"پولیس کو 15 پر اطلاع ملی کہ نادرا آباد کے علاقے میں 45 ہزار روپے کی ڈکیتی ہوئی ہے، تاہم تفتیش کے دوران معاملہ مشکوک لگا، اور بالآخر مدعی وہاب ہی اس واردات کا ماسٹر مائنڈ نکلا۔"
پلاننگ کے تحت رچی گئی واردات کی کہانی
تفتیش میں معلوم ہوا کہ:ملزم وہاب ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھا۔کمپنی نے اسے 45 ہزار روپے کا چیک کیش کروانے کے لیے دیا تھا۔ملزم نے رقم خوردبرد کرنے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کی اور ایک فرضی ڈکیتی کا ڈرامہ رچا دیا۔پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے 15 پر خود کال کی اور خود کو متاثرہ ظاہر کیا۔
پولیس تفتیش میں جھوٹ بے نقاب
ایس پی قاضی علی رضا کے مطابق:"ملزم زیادہ دیر پولیس کو چکما نہ دے سکا اور بالآخر دورانِ تفتیش اپنا جرم تسلیم کر لیا۔"پولیس نے ملزم وہاب کو رقم سمیت گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف جھوٹی واردات کی کال کرنے اور دھوکہ دہی کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
قانونی کارروائی اور تحقیقات جاری
پولیس کا کہنا ہے کہ:ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔مزید تفتیش جاری ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نوعیت کی مزید وارداتوں میں ملزم ملوث تو نہیں رہا۔