پرندوں کا نظامِ مواصلات، تسبیح انسانی شعور اور پیغامات

احمدخان اچکزئی 
محترم قارئین۔ قدرت کا کارخانہِ تخلیق ہر لمحہ انسان کو دعوتِ فکر دیتا ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خالقِ حقیقی کی حمد و ثنا میں مشغول ہے۔ انسان جسے محض ماحولیاتی غوغا یا کانوں کو بھلی لگنے والی موسیقی سمجھتا ہے، وہ دراصل پرندوں کی ایک باقاعدہ گفتگو، سماجی رول کال اور اپنے رب کے حضور تسبیح و مناجات کا ایک عجیب و غریب نظام ہے۔ حیاتیاتی لسانیات (Biolinguistics) اور پرندوں کے مشاہداتی علوم (Ornithology) کی جدید ترین ابحاث یہ ثابت کرتی ہیں کہ دنیا میں جتنے بھی پرندے ہیں، ان کی مختلف آوازیں محض بے معنی شور نہیں بلکہ ایک مربوط نظامِ مواصلات ہے۔ صوتیات کے ماہرین کے مطابق، غروبِ آفتاب کے وقت کسی گھنے درخت سے گونجنے والی مسحور کن اور شور انگیز آواز، جسے سائنسی زبان میں "evening chorus" کہا جاتا ہے، کے پیچھے تین بڑے سائنسی اسباب کارفرما ہیں۔ اس کا پہلا سبب اپنے علاقے اور ساتھی کا اعلان کرنا ہے تاکہ رات کے وقت کوئی دوسرا نر یا شکاری پرندہ ان کے ٹھکانے پر قبضہ نہ کر سکے۔ دوسری بڑی وجہ جھنڈ کا دوبارہ اکٹھا ہونا ہے، جہاں دن بھر الگ الگ چارے کی تلاش میں نکلنے والے پرندے شام کو ایک ہی مرکز پر جمع ہو کر ایک طرح کا "رول کال" کرتے ہیں، کیونکہ گروہ کی شکل میں رہنا انہیں رات کے اندھیرے میں شکاریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ تیسری وجہ شام کا سازگار ماحول ہے؛ اس وقت ہوا ٹھنڈی ہونے اور صوتی لہروں (Sound Waves) میں رکاوٹ کم ہونے کی وجہ سے پرندے کم توانائی خرچ کر کے اپنی آواز دور دراز بیٹھے ساتھیوں تک پہنچاتے ہیں۔ ماہرینِ حیاتیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس چہچہاہٹ میں "دن بھر کی بات چیت" بھی شامل ہوتی ہے جس میں وہ ایک دوسرے کو رزق کے مقامات اور خطرات سے آگاہ کرتے ہیں، اور جیسے ہی اندھیرا مکمل ہوتا ہے، یہ پورا نظام یکسر خاموش ہو جاتا ہے۔سائنس جہاں آکر رکتی ہے، اسلام کا روحانی اور الٰہی پہلو وہاں سے کائنات کے بند کواڑ کھولتا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورہ النور میں واضح کیا گیا ہے کہ آسمان و زمین کی ہر مخلوق اور پرندے اپنے خاص اندازِ عبادت اور نماز سے بخوبی واقف ہیں، جو اس بات کا لغوی و شرعی ثبوت ہے کہ یہ چہچہاہٹ دراصل ان کا اندازِ تسبیح ہے۔ ان آوازوں میں سب سے مستند اور جلیل القدر آواز مرغ کی بانگ ہے، جس کے بارے میں احادیثِ نبویہ میں صراحت موجود ہے کہ وہ فرشتوں کو دیکھ کر چلاتا ہے اور انسانوں کو غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کا غیبی اشارہ دیتا ہے۔ پرندوں کی یہ اجتماعی آوازیں انسان کو "توکل علی اللہ" کا عملی درس دیتی ہیں، جیسا کہ فرمانِ نبوی ? ہے کہ پرندے صبح کو بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس لوٹتے ہیں۔ اس تناظر میں صبح کی چہچہاہٹ سفرِ رزق پر روانگی سے پہلے بارگاہِ الٰہی میں دعا اور توکل کا اظہار ہے، جبکہ شام کی چہچہاہٹ دن بھر ملنے والی نعمتوں پر شکرانے کا ترانہ ہے۔ پرندوں کی اس فہم و 
فراست پر سورہ النمل میں مذکور حضرت سلیمان علیہ السلام اور ہدہد کا واقعہ مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے، جہاں ہدہد نے ملکِ سبا کے شرک پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ پرندے بھی کائنات میں شرک سے بیزار ہیں اور ان کی فطری آوازیں انسان کو اللہ کی حاکمیتِ اعلیٰ کی طرف بلاتی ہیں۔ تصوف اور تفسیری روایات میں انبیاء￿  کرام کو "منطق الطیر" (پرندوں کی بولیاں) سکھائے جانے کا تذکرہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان نغمات میں کائنات کے وہ پوشیدہ اسرار ہیں جو عام انسانی سماعت سے اوجھل ہیں، جہاں فاختہ اور بلبل کی درد بھری آوازیں انسانِ عاقل کو دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرینِ حیاتیات کے ٹھوس حوالوں کے مطابق، پرندوں کی فریکوئنسی اور پچ میں چھپے پیغامات انسانی شعور کو کائناتی سچائیوں کا پتہ دیتے ہیں۔ جب ایک مخصوص چڑیا یا بلبل صبح و شام چہچہاتی ہے، تو وہ انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ رزق کی تلاش میں نکلنا اور پھر قناعت کے ساتھ اپنے ٹھکانے پر لوٹ آنا ہی بقا کا اصل راز ہے۔ پرندوں کی 'الارم کالز' یعنی شکاری کو دیکھ کر نکالی جانے والی آوازیں انسانی معاشرے کے لیے یہ سبق ہیں کہ خطرات کے وقت باہمی اتحاد اور بروقت آگاہی ہی قوموں کو تباہی سے بچاتی ہے۔ عقاب کی تیز چیخ سے لے کر فاختہ کی مدہم ہوک تک، اور طوطے کی تکرارِ الفاظ سے لے کر کوئل کی نغمگی تک، ہر آواز قدرت کے توازن، ڈسپلن اور وقت کی پابندی کا مَظہر ہے۔ جب پرندے شام کو یک زبان ہو کر چہچہاتے ہیں، تو یہ کائناتی ہم آہنگی کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے؛ وہ انسان کو، جو اشرف المخلوقات ہو کر بھی تفرقے اور انتشار کا شکار ہے، یہ پیغام دیتے ہیں کہ اختلافات کے باوجود بقائے باہمی کے لیے ایک ہی مرکز پر اکٹھا ہونا ناگزیر ہے۔ پرندوں کا یہ نظم و ضبط انسانی معاشرت کے لیے کھلا نمونہ ہے کہ کس طرح وسائل کی تقسیم، تحفظ اور معلومات کا تبادلہ پرامن طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ کائنات کا کتنا بڑا تضاد اور عجیب موازنہ ہے کہ وہ پرندے جن کا نہ کوئی بینک بیلنس ہے اور نہ ہی اناج ذخیرہ کرنے کا کوئی نظام، وہ ایک پل کے لیے بھی اپنے رب کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔ چنانچہ، جب اندھیرا چھانے پر یہ آوازیں یکسر خاموش ہو جاتی ہیں، تو یہ رات کے سکون اور نظامِ قدرت کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کرنے کا آخری خاموش پیغام ہوتا ہے، جس پر انسان کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔