رومانیہ نے مسلسل دوسرے روز اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی ملک کے فضائی دفاعی نظام کی بروقت نگرانی اور فوری ردعمل کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رومانیہ کے وزیر دفاع راڈو میروتا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر بتایا کہ ہفتے کے روز ملکی فضائی حدود میں ایک مشتبہ ڈرون داخل ہوا، جسے دفاعی ریڈار سسٹم نے فوری طور پر ٹریس کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون کی نشاندہی ہونے کے تقریباً پانچ منٹ بعد رومانیہ کی فضائیہ کے ایف-16 لڑاکا طیارے نے کارروائی کرتے ہوئے اسے مار گرایا۔اس سے ایک روز قبل، جمعے کے روز بھی رومانیہ نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک اور ڈرون کو تباہ کیا تھا۔ مسلسل دو روز میں ڈرون مار گرانے کے واقعات نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔رومانیہ، جو نیٹو کا رکن ملک ہے، یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد متعدد بار اپنی سرحدوں کے قریب ڈرون دراندازی کے واقعات کی نشاندہی کر چکا ہے۔ تاہم اس سے قبل رومانیہ کی افواج نے کسی بھی مشتبہ ڈرون کو مار گرانے کی کارروائی نہیں کی تھی۔
2025 میں رومانیہ کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرونز کو تباہ کرنے کی قانونی اجازت دی گئی۔ اس قانون کے بعد رومانیہ کی افواج کو فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کا اختیار حاصل ہو گیا۔دفاعی ماہرین کے مطابق رومانیہ کی حالیہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نیٹو کے مشرقی محاذ پر فضائی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ یوکرین جنگ کے باعث سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو پہلے سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔رومانیہ کی حکومت نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ تباہ کیا گیا ڈرون کس ملک یا گروہ سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔