بھارتی موسیقار و گلوکار انو ملک کے بھائی اور خود بھی موسیقار ڈبو ملک نے اپنے بیٹے امال ملک کے انو ملک سے متعلق حالیہ تبصروں کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خیالات ذاتی نقطۂ نظر پر مبنی ہیں اور ان کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔
یاد رہے کہ امال ملک نے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ انو ملک نے ان کے والد ڈبو ملک کے فنی کیریئر کو دانستہ نقصان پہنچایا۔ امال نے الزام لگایا تھا کہ انو ملک اکثر ان کے والد کے منصوبے چھین لیتے اور پروڈیوسرز کو کم یا بغیر معاوضہ کام کی پیشکش کر کے اُن کے پروجیکٹس حاصل کر لیتے تھے۔ڈبو ملک نے اس حوالے سے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ:"امال نے جو کچھ کہا وہ اس کا ذاتی نقطۂ نظر ہے، اور اس بات کو یوں اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔ جب آپ سالوں تک جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں، تو گھریلو گفتگو بچوں کے ذہنوں میں بیٹھ جاتی ہے، اور برسوں بعد وہی باتیں ان کے ذہن میں ابھر کر آتی ہیں، حالانکہ ان کا ارادہ ایسا کچھ کہنا نہیں ہوتا۔"ڈبو ملک نے کہا کہ یہ دنیا مقابلے کی ہے، جہاں کوئی کسی کا ہاتھ پکڑ کر سپر اسٹار نہیں بناتا۔"کون ہے جو کسی کی مدد کے لیے بیٹھا ہے؟ آپ یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ آپ کا بھائی یا کوئی اور آپ کے لیے سب کچھ کرے گا۔
ہر کوئی اپنی زندگی کے چیلنجز سے لڑ رہا ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ انو ملک نے اپنی زندگی میں بہت محنت کی ہے، اور ہر کسی کو اپنے راستے خود بنانے پڑتے ہیں۔"یہ توقع کرنا کہ کوئی رشتہ دار آپ کے لیے سب کچھ کرے گا، حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ امال نے شاید کچھ باتیں جذبات میں آ کر کہہ دیں، لیکن ان کا کوئی عملی فائدہ نہیں۔"امال ملک نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے والد کو موسیقی کی دنیا میں سب سے زیادہ مایوسی اپنے قریبی لوگوں، رشتہ داروں اور دوستوں سے ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نہ صرف انو ملک بلکہ موسیقار جوڑی ساجد-واجد بھی ان کے والد کے کیریئر میں رکاوٹ بنے۔واضح رہے کہ ڈبو ملک نے اداکاری سے اپنا کیریئر شروع کیا لیکن کامیابی حاصل نہ ہونے پر موسیقی میں قسمت آزمائی کی۔ انہوں نے ’یہ زندگی کا سفر‘، ’تم کو نہ بھول پائیں گے‘، ’میں نے دل تجھ کو دیا‘ اور ’ہم تمہارے ہیں صنم‘ جیسی فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی۔