بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شفافیت پر سینیٹر انوشہ رحمان کا اظہارِ تشویش

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شفافیت پر سینیٹر انوشہ رحمان کا اظہارِ تشویش

اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) پر شفافیت اور آڈٹ سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔

انوشہ رحمان نے استفسار کیا کہ کیا بی آئی ایس پی میں آڈٹ کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے یا نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کی تقسیم کے باوجود شفافیت کا کوئی موثر نظام نظر نہیں آ رہا۔اس پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے سینیٹر کے سوالات کو درست قرار دیا اور تسلیم کیا کہ 2022 میں جب بی آئی ایس پی کا آغاز ہوا تو اس کی رقم صرف 2 ارب روپے تھی، جو بعد میں بڑھا کر 21.5 ارب روپے کر دی گئی۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ بی آئی ایس پی کے تحت اب تک 97 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں، تاہم پیپرا (PPRA) رولز کے مطابق اس پروگرام کی پروکیورمنٹ نہیں کی گئی۔وفاقی وزیر نے وعدہ کیا کہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ پروگرام کی شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔