گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت مالیاتی پالیسی کمیٹی (MPC) کا اہم اجلاس بدھ، 31 جولائی 2025 کو منعقد ہوگا۔
ذرائع کے مطابق، اس اجلاس میں شرح سود میں کمی کے قوی امکانات ہیں۔
شرح سود میں کتنی کمی ہو سکتی ہے؟
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ طویل عرصے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 سے 150 بیسز پوائنٹس تک کمی متوقع ہے۔
موجودہ پالیسی ریٹ: 11 فیصد
متوقع نیا ریٹ: 10.5 سے 10 فیصد کے درمیان
فیصلے میں احتیاط برتی جائے گی
ماہرین کے مطابق یہ اجلاس رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہو گا، اور امکان ہے کہ اس میں احتیاط برتتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 50 سے 100 بیسز پوائنٹس کم کیا جائے گا۔
مالیاتی پالیسی کمیٹی کے اجلاسوں کا سالانہ شیڈول جاری
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی شفافیت اور اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کے پیشِ نظر پہلی بار اجلاسوں کا پیشگی کیلنڈر جاری کیا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے آٹھ اجلاسوں کا شیڈول کچھ یوں ہے:
بدھ، 31 جولائی 2025
پیر، 15 ستمبر 2025
پیر، 27 اکتوبر 2025
پیر، 15 دسمبر 2025
پیر، 26 جنوری 2026
پیر، 9 مارچ 2026
پیر، 27 اپریل 2026
پیر، 15 جون 2026
مزید یہ کہ اگلا سالانہ کیلنڈر جولائی 2026 میں جاری کیا جائے گا۔ اگر کسی غیر متوقع وجہ سے کوئی اجلاس ملتوی ہوا تو نئی تاریخ کا بروقت اعلان کیا جائے گا۔
پالیسی ریٹ میں ممکنہ کمی کا پس منظر
شرح سود میں ممکنہ کمی کا تعلق مہنگائی میں کمی، روپے کے استحکام، اور آئی ایم ایف سے معاہدوں جیسے معاشی عوامل سے جوڑا جا رہا ہے۔ بینکاروں اور سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔