ڈپو میں کھڑی میٹرو بسیں کباڑ

  60 بسوں کی ونڈ سکرین، سٹیئرنگ، سیٹیں بھی غائب،  نشئیوں  کے ڈیرے،،بسیں اب سکریپ  حکومت کی ملکیت نہیں:عزیر شاہ
لاہور ( کرائم رپورٹر)  گجومتہ سے شاہدرہ تک چلنے والی  میٹرو بسیں   عدم توجہی کی تصویر بن گئیں، 2021 میں کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعدترک کمپنی نے  ان بسوں کے مستقبل کا فیصلہ نہ کیا۔ صاحب اقتدار نے بھی لاوارث چھوڑ دیا  جس کے باعث پرانا کاہنہ مین فیروز پور روڈ   ڈپو میں   بسیں کباڑ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ تفصیل کے مطابق  نجی بس ڈپو میں کھڑی یہ بسیں چوروں اور نشئیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اربوں روپے کی مالیت سے منگوائی گئی ان بسوں کا سامان چوری ہونے لگا۔ 60   بسوں کا بیشتر سامان چوری ہوچکا ہے۔لال بسوں کی ونڈ سکرین، سٹیئرنگ، سیٹیں بھی چوری ہوچکی ہیں۔  2013 میں منگوائی گئی 64 بسوں کی قیمت 3 ارب 72 کروڑ روپے تھی۔ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور   کمپنی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد انہیں روٹ پر چلانے کی تجویز بھی زیر غور تھی۔گجومتہ سے قصور تک میٹرو بس کو روٹ پر لانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا۔جی ایم آپریشنز ماس ٹرانزٹ اتھارٹی عزیر شاہ کا کہنا تھا کہ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور کمپنی کے درمیان معاہدہ ختم ہوگیا،یہ میٹرو بسیں اب سکریپ ہیں اور حکومت کی ملکیت نہیں۔