بلاول بھٹو خطرے کی گھنٹی بجا دی شہباز شریف
صدر ،وزیر اعظم سے بات کرینگے ، صرف پارلیمنٹ کو 26ویں ترمیم واپس لینے کا اختیار ، ٹرمپ کے ناشتے میں شرکت کروں گا ، پیکا ایکٹ پر صحافیوں سے مشاورت کرتے تو بہتر ہوتا ، بلاول بھٹو ، ،پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں نیئر بخاری کی میڈیا کو بریفنگ
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس زرداری ہائوس میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ،قمر زمان کائرہ ، نوید قمر،فرحت اللہ بابر ،شیری رحمن ،فاروق ایچ نائیک ،گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر ، مخدوم احمد محمود ،خورشید شاہ ،میر باز کیتھران ،منظور وسان ،نثار کھوڑو،تسنیم قریشی ،اعجاز جھاکرانی چودھری منظور سمیت آزاد کشمیر کی سی ای سی کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں کچھ ارکان نے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی شرکت کی، اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ،خصوصی کمیٹی نے حکومت سے مذاکرات پر بریفنگ دی۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے پاور شیئرنگ کے معاملے پر (ن)لیگ سے مذاکرات کے لیے تمام کمیٹیاں تحلیل کردیں اور فیصلہ کیا ہے کہ اب صدر مملکت اس معاملے پر وزیراعظم سے مذاکرت کریں گے۔ اجلاس کے بعد پی پی پی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری ، شازیہ مری ،شیری رحمن اور دیگر نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس کی قرارداد میں خیبرپختونخوا میں گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کی کاوش کو سراہا گیا اور اے پی سی کی تجاویز کی توثیق کی گئی اور خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس کی تمام تجاویز پر عمل درآمد کریں۔ اجلاس کی قرارداد میں کْرم کی کشیدہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور امن کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا جبکہ امدادی سامان کی ترسیل کے راستوں کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں پیپلزپارٹی اور حکومت کے معاہدے کے تحت پنجاب اور اسلام آباد میں مقامی حکومت کے فوری انتخابات کا بھی مطالبہ کیا گیا ، متنازعہ کینالوں کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 11 ماہ سے التواء کے شکار مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کو فی الفور بلانے کا مطالبہ اور متنازعہ کینالوں کے معاملے کو فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں پی ڈبلیو ڈی، کراچی ڈاک لیبر بورڈ، یوٹیلیٹی سٹور، پاسکو، جینکو، این ایف سی و دیگر اداروں میں تمام مزدور دشمن اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حکومت کی زرعی پالیسیوں پر تنقید ،کسانوں کو کسی بھی قسم کی امداد نہ ملنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کے فی الفور اجراء کا مطالبہ کیا ، قرارداد میں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی استبداد اور ظلم و ستم کی مذمت ، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا گیا ، گلگت بلتستان کے عوام کے حق ملکیت اور حق حاکمیت کے مطالبے پر عمل درآمد کے لئے سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صرف پارلیمنٹ کو 26ویں ترمیم کو واپس لینے کا اختیار ہے اور اگر کوئی دوسرا ادارہ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو کوئی قبول نہیں کرے گا۔صدر ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے سوال پر چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ یہ میڈیا کی خبر ہے ان سے ہی پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف ناشتے کی تقریب میں شرکت کریں گے، میرے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ، اس لیے ان کا امریکی حکام کے ساتھ باضابطہ ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔پیپلز پارٹی کے حکومت میں شامل ہونے کے سوال پر انہوں نے نفی میں جواب دیا۔پی ای سی اے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ریکارڈ پر ہے کہ ہم نے پی ٹی آئی حکومت کے دوران پیکا بل کی مخالفت کی تھی۔پیپلز پارٹی کے پاس اکثریت نہیں کہ اپنی مرضی سے قانون سازی کر سکے۔انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر اس قانون سازی کے لیے صحافتی تنظیموں سے مشاورت کی جاتی۔سپریم کورٹ کے حوالے سے 26ویں ترمیم کے معاملے پر ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ جب بھی سپریم کورٹ میں پوزیشنز تبدیل ہوتی ہیں تو جج صاحبان چیف جسٹس کی حمایت کرنے کے بجائے اس کے برعکس کرتے ہیں۔