پیپلز پارٹی ، ن لیگ ڈیڈ لاک برقرار
پیپلز پارٹی نے 20 ہزار سے زائد ووٹ لینے والے اپنے ٹکٹ ہولڈرز کو ترقیاتی فنڈز دینے کا مطالبہ کردیا ،مختلف محکموں کی چیئرمین شپ نہ ملنے اور افسران کی تعیناتی کا وعدہ پورا نہ ہونے کا شکوہ ، پارٹی تنقید بھی کرتی ہے اور فنڈز بھی برابر کے مانگتی ہے: ن لیگ کا جواب
لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان پنجاب میں پاور شیئرنگ کا معاملہ، گزشتہ روزکیاجلاس کی اندرونی کہانی سامنیآگئی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان پنجاب میں پاؤر شیئرنگ کے معاملے پر کوآرڈینیشن کمیٹی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے پنجاب میں پاؤر شیئرنگ کے بدلے پیپلز پارٹی سے سندھ میں حصہ مانگ لیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں لیگی ارکان کے برابر ترقیاتی فنڈز دینیکا مطالبہ دہرایا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مختلف محکموں کی چیئرمین شپ نہ ملنے اور افسران کی تعیناتی کا وعدہ پورا نہ ہونے کا شکوہ کیا اور پیپلز پارٹی نے 20 ہزار سے زائد ووٹ لینے والے اپنے ٹکٹ ہولڈرز کو ترقیاتی فنڈ دینے کا مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے پنجاب میں نئے لوکل ایکٹ بل پر تحفظات کا اظہار کیا جبکہ ن لیگی رہنماؤں نے شکوہ کیا کہ پیپلز پارٹی تنقید بھی کرتی ہے اور فنڈز بھی برابر کے مانگتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے مسلم لیگ ن نیکابینہ میں شامل ہونے پر پیپلز پارٹی کو محرومیوں ختم کرنے کی پیشکش کر دی جبکہ پنجاب میں پاور شیئرنگ کے معاملات دیکھنے کے لیے سب کمیٹی تشکیل دے دی گء۔ذرائع کا بتانا ہے کہ سب کمیٹی میں ن لیگ کی جانب سے ملک محمد احمد خان اور مریم اورنگزیب شامل ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے علی حیدر گیلانی اور حسن مرتضیٰ کمیٹی ممبر ہوں گے، سب کمیٹی ہر ہفتے پاؤر شیئرنگ کے معاملات کا جائزہ لیگی۔۔ ذرائع کے مطابق صوبائی اتھارٹیز میں نامزدگیاں، ترقیاتی فنڈز، بیوروکریسی میں تبادلے پیپلز پارٹی کے مطالبات میں شامل تھے تاہم وہ مسلم لیگ ن سے اپنا کوئی ایک بھی مطالبہ نہ منوا سکی، ۔ لیگی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کابینہ میں شامل ہو اور تمام محرومیوں کو کم کریں اورہم پنجاب میں پیپلز پارٹی کے مطالبات تسلیم کرتے ہیں تو سندھ میں ن لیگ کو بھی پائورشیرنگ میں حصہ دیاجائے۔ رابطہ کمیٹیوں کا آئندہ اجلاس 12 اپریل کو ہوگا۔