ریاست نے ملک ریاض پر ہاتھ ڈال دیا، بحریہ ٹائون کی قومی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے، کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے حالات بدلنے پر ریلیف ملے گا‘لوگ مال ودولت کیلئے بدل جاتے ہیں
ملک ریاض کی یو اے ای سے پاکستان حوالگی کا پراسس مکمل کرکے یہاں مقدمات چلائے جائیں گے‘کسی بھی صورت اس قسم کے مافیا کو ریاست کو چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: پریس کانفرنس
اسلام آباد (آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے 190 ملین پائونڈز کیس بڑی واردات ہے، اب احتساب اور حساب ضرور ہو گا، ملک بھر میں قائم بحریہ ٹائون کے معاملے کی قومی سطح پر تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے، ریاست نے 25 سال بعد ملک ریاض پر ہاتھ ڈال دیا ہے، اب ان کا بچنا مشکل ہے، کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ حالات بدلنے پر ریلیف ملے گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔خواجہ آصف نے کہا لوگ مال ودولت کیلئے بدل جاتے ہیں، آخری واردات 190ملین پائونڈ والی ہوئی ہے، کابینہ میں کاغذ لہرایا گیا تھا، القادر یونیورسٹی کیلئے 438ایکڑ زمین دی گئی، پی ٹی آئی والے بتادیں ریاست کا پیسہ ان کے اکائونٹ میں کیسے چلا گیا؟۔انہوں نے کہا کہ القادر یونیورسٹی کوئی ادارہ نہیں جعلی نام رکھا ہوا ہے، القادر یونیورسٹی کو کالج کا درجہ دینا بھی توہین ہے، یہ کہتے ہیں حسن نواز نے بھی تو پراپرٹی خریدی، این سی اے نے حسن نوازکی پراپرٹی کی بھی تحقیقات کیں، حسن نواز نے کوئی ٹرانزیکشن نہیں چھپائی، حسن نواز کی ٹرانزیکشن پوری طرح انویسٹی گیٹ ہوئی، اس کے بعد ان کی بھی تحقیقات ہوئی۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ جب میڈیا، سیاستدان یا عدالتیں جب مل جاتی ہیں تو ایک جرم کی پشت پناہی ہوتی ہے، حکومت اور ملک کو بلیک میل کیا گیا، یہ ریاست کو چیلنج کرتے ہیں،پھر سمجھتے ہیں پیسے کے زور پر چکما دے جائیں گے، ان پر نیب نے ڈیٹیل چارج شیٹ لگائی، ہم سب جیل میں تھے ٹی وی پر جھوٹے الزامات کی بھرمار ہوتی تھی۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے اس پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا یہ اس کی بھول ہے، اب ریاست ان پر ہاتھ ڈالے گی، کسی بھی صورت میں اس قسم کے مافیا کو ریاست کو چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی