عدالتیں بدلہ لینے کی جگہ نہیں اور نہ ہی وکیل ٹولز ہیں:بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کے دوران ریمارکس
اسلام آباد (آئی این پی )اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے ہیں کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ماں نے مردوں کی تربیت ٹھیک نہیں کی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے اپنے ساتھ کرسی لگوا کر نو عمر بچے کو بٹھایا۔جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس میں کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ماں نے مردوں کی تربیت ٹھیک نہیں کی۔ عدالتیں بدلہ لینے کی جگہ نہیں اور نہ ہی وکیل ٹولز ہیں۔ بچوں یا ماں باپ کو عدالتوں میں نہیں آنا چاہیے۔ جہاں ماں باپ ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے وہاں بچے بھی ان کی عزت نہیں کرتے۔جسٹس محسن اخترنے کہا کہ فیصلہ آسان ہے لیکن کسی کے اندرمحبت نہیں ڈال سکتے۔ بچوں کو ہینڈل کرنا بہت آسان ہے۔ ماں کرے،باپ یا کوئی تیسرا۔ بچہ جس کے ساتھ بھی ہو دوسرے کے خلاف ہوجاتاہے۔۔ ماں باپ دونوں نے بچے کو اس سطح پر لانا ہوتاہے جہاں وہ آسانی محسوس کرے۔مجھے لگتاہے