یوکرین میں جنگ نے صحت کے نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا: ڈبلیو ایچ او رپورٹ

یوکرین میں جنگ نے صحت کے نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا: ڈبلیو ایچ او رپورٹ

یوکرین میں جاری جنگ کے باعث ملک کا صحت کا نظام شدید دباؤ میں ہے اور شہری بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی تازہ رپورٹ (2025) کے مطابق:

گزشتہ سال کے مقابلے میں صحت کے مراکز پر حملوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔فروری 2022ء سے اب تک یوکرین بھر میں اسپتال، کلینک، ایمبولینس، طبی عملے اور گوداموں پر تقریباً 2,900 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جو انسانی بحران کے دوران سب سے زیادہ تعداد ہے۔لاکھوں شہری ایمرجنسی سرجری، زچگی، دائمی بیماریوں کے علاج اور ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی سے محروم ہیں۔ متعدد علاقوں میں صورتحال سنگین ہے، جہاں 59 فیصد افراد نے اپنی صحت خراب یا بہت خراب قرار دی۔عوام میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن میں اضافہ ہوا، مگر متاثرہ افراد کی بڑی تعداد کو مناسب علاج میسر نہیں۔بجلی اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی وجہ سے اسپتالوں میں وینٹی لیٹر، لیبارٹری ٹیسٹ اور ویکسین کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
طبی عملہ بھی شدید خطرات میں کام کر رہا ہے اور ایمبولینسز و طبی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال انسانی حقوق اور بین الاقوامی صحت کے معیارات کے شدید خلاف ہے، اور عالمی برادری کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ شہریوں کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔