لاہور:شادمان کے علاقے میں شوہر کے ہاتھوں بیوی کے قتل کی افسوسناک واردات پیش آئی، جس کے بعد پولیس نے مقتولہ کے شوہر اسماعیل، ساس اور تین دیوروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
مقدمہ تھانہ شادمان میں مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔مدعی کے مطابق انہوں نے 12 سال قبل بیٹی کی شادی کے وقت اسے 150 تولہ سونا پہنایا تھا۔والد نے بتایا کہ شوہر اور سسرال کے افراد اکثر بیٹی کو تنگ کرتے اور جھگڑا کرتے تھے۔بیٹی کے گھر بسانے کے لیے والد نے ڈیفنس میں کمرشل پلاٹ اور دکان بھی خرید کر دی، تاہم ملزمان مزید 3.5 کروڑ روپے کا مطالبہ کر رہے تھے۔مدعی نے بتایا کہ ایک کروڑ روپے اپنے ملازم کے ذریعے مرکزی ملزم اسماعیل کو بھجوائے، جس کے بعد بھی مالی جھگڑے جاری تھے۔مقدمے کے مطابق ملزم اسماعیل مقتولہ کی گاڑی فروخت کرنا چاہتا تھا، جس پر شدید جھگڑا ہوا۔
پولیس کارروائی:
مرکزی ملزم اسماعیل کو گزشتہ روز گرفتار کر لیا گیا۔دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کی فوری گرفتاری میں تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔یہ واقعہ خاندان کے اندر مالی تنازعات اور تشدد کے باعث گھریلو مسائل کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے، اور سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں بھی اس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔