بھارت کو وہ سبق سکھایا ساری عمر یاد رکھے گا شہبازشریف
پاکستان اور کشمیر کو دنیا کے نقشے پر عظیم بنائیں گے، وہ دن ضرور آئے گا جب مقبوضہ کشمیر آزاد ہوگا‘ لیپ ٹاپ کوئی عام مشین نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو نوجوانوں کو ترقی کی راہ دکھاتا ہے:مظفر آباد میں تقریب سے خطاب
ملک میں کاروبار بڑھانے اور معاشی ترقی کے لئے ہماری بندرگاہوں کا انتہائی اہم کردار ہے، بندرگاہوں میں پڑے متروکہ کارگو کی نیلامی کے لئے ایک شفاف نظام لایا جائے:وزیراعظم کی اجلاس میں ہدایت
مظفر آباد (آئی این پی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی‘ افواج پاکستان نے بھارت کو جو سبق سکھایا وہ ہمیشہ یاد رکھے گا‘ مئی کی جنگ میں آزاد کشمیر کے عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ تھے‘ لیپ ٹاپ کوئی عام مشین نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو نوجوانوں کو ترقی کی راہ دکھاتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مظفر آباد میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران کشمیریوں سمیت پورے ملک نے افواجِ پاکستان کی کامیابی کے لیے دعائیں کیں اور افواجِ پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کو دنیا کے نقشے پر ایک عظیم مقام دلائیں گے اور وہ دن ضرور آئے گا جب مقبوضہ کشمیر آزاد ہوگا، انہوں نے کہا کہ محنت اور شبانہ روز جدوجہد کے ذریعے پاکستان کو ایک عظیم مملکت بنانا ہے اور صلاحیت و محنت کسی جسمانی کمزوری کی محتاج نہیں ہوتیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں بعض عناصر نے لیپ ٹاپ اسکیم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور طعنے دیے گئے کہ یہ لیپ ٹاپ نہیں بلکہ رشوت ہے حالانکہ نواز شریف کے دور میں لاکھوں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے اور ایک بھی سفارش پر نہیں دیا گیا۔ دریں اثناء محمد شہباز شریف کی زیر صدارت معاشی ترقی کے لیے بندرگاوں کے حوالے سے تشکیل دیے گئے نجی شعبے کی ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کو کاروباری برادری کیلئے بندرگاہوں پر سہولیات اور اصلاحات کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کاروبار بڑھانے اور معاشی ترقی کے لیے ہماری بندرگاہوں کا انتہائی اہم کردار ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کاروباری برادری کی سہولت کے لیے بندرگاہوں سے منسلک مختلف ادارے آپس میں تعاون کو مزید بہتر بنائیں تاکہ کارگو کا ڈویل ٹائم (Dwell Time) کم سے کم ہو سکے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مختلف نوعیت کے پورٹ چارجز کو مزید کم کیا جائے، بندرگاہوں میں پڑے متروکہ کارگو کی نیلامی کے لیے ایک شفاف نظام لایا جائے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متروک کارگو کے لیے ملک کی مختلف بندرگاہوں میں الگ یارڈز بنائے جائیں اور اس کے لیے عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کی خدمات لی جائیں، کارگو کی جانچ کے لیے ابتدائی ٹیسٹنگ لیب بندرگاہوں پر ہی بنائے جائیں، کارگو کے غیر ضروری لیبارٹری ٹیسٹ کا خاتمہ کیا جائے، پاکستان کی تمام بندرگاہوں کی ڈریجنگ اور توسیع پر کام تیز کیا جائے تاکہ بڑے جہاز لنگر انداز ہو سکیں۔