امریکا نے شام کو ریاستی دہشتگردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کردیا ہے، جس کے بعد ملک پر عائد کئی دہائیوں پرانی پابندیاں ختم ہوگئیں ہیں۔
واشنگٹن کے اس اقدام سے شام میں غیرملکی سرمایہ کاری، تجارتی سرگرمیاں اور اقتصادی ترقی کے امکانات میں اضافہ متوقع ہے۔اس کے علاوہ، امریکی محکمہ خارجہ نے شام کو دہشتگرد تنظیم النصرہ فرنٹ، جسے بعد میں حیات تحریر الشام کے نام سے جانا گیا، کو بھی عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دینے کی اپنی فہرست سے خارج کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، امریکی محکمہ خزانہ نے شام کے حوالے سے بعض پابندیوں میں نرمی کی کارروائی شروع کی ہے، جس کا مقصد ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کو فروغ دینا ہے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شام میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا اور ملک کے معاشی حالات بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ شام کو دہشتگرد فہرست سے نکالنے کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن دہشتگردی کے خلاف اپنی پالیسی بدل رہا ہے۔
یاد رہے کہ حیات تحریر الشام کا سابق نام النصرہ فرنٹ تھا، جو ماضی میں القاعدہ کی شامی شاخ کے طور پر کام کرتی رہی، لیکن 2016 میں اس نے القاعدہ سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا۔امریکا نے رواں سال جولائی میں بھی شام کو دہشتگرد سرپرست ممالک کی فہرست سے نکالنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد شام کے موجودہ صدر احمد الشرعہ کی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا اور دمشق کو اقتصادی و سیاسی ترقی کے مواقع فراہم کرنا تھا۔اس اقدام سے شام میں غیرملکی سرمایہ کاری، تجارتی روابط اور معاشی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، تاہم ملک کو اب بھی طویل جنگ کے اثرات، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔