وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
اس اجلاس میں سپورٹس ایکشن پلان پر بریفنگ دی گئی، جس میں تمام چیئرمین تعلیمی بورڈز اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کے تمام سکولوں میں اکتوبر سے دسمبر کے دوران میگا سپورٹس ایونٹس منعقد کیے جائیں گے۔ یہ مقابلے تحصیل، ضلع، ڈویژن اور صوبائی سطح پر ہوں گے، اور دسمبر میں فائنل ایونٹ لاہور بورڈ کی میزبانی میں ہوگا۔وزیر تعلیم نے کھیلوں کے مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے لیے انعامی رقم میں اضافہ کرتے ہوئے تین کیٹیگریز کے لیے 5 لاکھ، 3 لاکھ اور 1 لاکھ روپے مقرر کیے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ہر کیٹیگری کے طلبہ کے لیے الگ انعامات مختص کیے جائیں اور حصہ لینے والے طلبہ و طالبات کے لیے بھی الگ انعامات رکھے جائیں۔رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ حکومت گراس روٹ لیول پر کھیلوں کے ٹیلنٹ کو پروان چڑھائے گی، اور جو طلبہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے، انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں سکول کھیلوں کی نرسریاں ہوا کرتی تھیں جنہوں نے ملک کو بہترین کھلاڑی فراہم کیے، اور اب ان سرگرمیوں کی بحالی سے طلبہ کی تعلیمی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوگا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کے تمام 35 ہزار سکولوں میں سپورٹس کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں، اور اب تک 450 سکولوں میں کھیلوں کا سامان فراہم بھی کیا جا چکا ہے۔ وزیر تعلیم نے سپورٹس کٹس کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ کھیلوں کی سرگرمیاں تعلیمی بورڈز کا مینڈیٹ ہیں، جنہیں ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔مزید برآں، انہوں نے نجی سکولوں کو بھی کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور کہا کہ آئندہ سال تعلیمی اداروں میں ہم نصابی سرگرمیوں کو بھی بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے تین سالہ پالیسی تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔