ایرانی وفد نیویارک سے واپس کیسے جائے گا؟ امریکی وزیر خزانہ نے سوال اٹھا دیا

ایرانی وفد نیویارک سے واپس کیسے جائے گا؟ امریکی وزیر خزانہ نے سوال اٹھا دیا

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے باعث ملک کی بین الاقوامی فضائی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے اور ایران سے بیرونِ ملک جانے والی 80 سے 90 فیصد پروازیں بند ہوچکی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی پابندیوں کی مہم ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران پر غیر معمولی معاشی دباؤ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی فضائی رابطوں میں پیدا ہونے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آنے والا ایرانی وفد وطن واپس کیسے جائے گا۔ایران کے فضائی شعبے کو حالیہ عرصے میں نئی امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایرانی ایئرلائنز اور ان سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر دباؤ بڑھایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بعض بین الاقوامی روٹس پر پروازیں معطل یا منسوخ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق بعض ممالک میں ایرانی ایئرلائنز کو ایندھن، گراؤنڈ ہینڈلنگ اور دیگر زمینی سہولیات تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ایران کے تمام فضائی رابطے ختم نہیں ہوئے۔ چین سمیت بعض ممالک کے ساتھ ایران کی پروازیں اب بھی جاری ہیں۔

ایرانی وفد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ایرانی اعلیٰ حکام کو اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے دیے گئے تھے، تاہم ان کے سفر اور سرگرمیوں پر بعض پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔موجودہ صورتحال میں ایرانی وفد کی وطن واپسی کے لیے دستیاب محدود پروازوں یا متبادل فضائی راستوں سے استفادہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران کی فضائی آمدورفت پر امریکی پابندیوں کے اثرات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان علاقائی کشیدگی، معاشی پابندیوں اور سفارتی حل کے امکانات پر اختلافات برقرار ہیں۔واضح رہے کہ ایران سے 80 سے 90 فیصد بین الاقوامی پروازیں بند ہونے کا اعداد و شمار امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا دعویٰ ہے۔