تل ابیب: فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں شریک پائلٹ کی جانب سے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی مبینہ کوشش کے بعد اسرائیل کے فضائی سیکیورٹی نظام پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
علاقائی حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پرواز کی روانگی سے قبل اسرائیلی حکام کو مسافروں اور عملے کی فہرست فراہم کی تھی، جس میں پائلٹس کے نام اور قومیتیں بھی شامل تھیں، تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے کسی مسافر یا عملے کے رکن کے بارے میں سیکیورٹی خدشات کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔یہ واقعہ 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پیش آیا۔ طیارے میں 182 افراد سوار تھے۔متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق عمانی شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس دوران طیارہ خطرناک حد تک تیزی سے نیچے آنے لگا۔بعد ازاں کپتان، عملے اور مسافروں کی مدد سے حملہ آور کو قابو کرلیا گیا، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمانی شریک پائلٹ کو اس سے قبل اپنے ملک میں پرواز کرنے سے روک دیا گیا تھا کیونکہ اس کے مبینہ انتہا پسندانہ خیالات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود وہ فلائی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے اور اسرائیل جانے والی پرواز کے عملے میں شامل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
واقعے نے مختلف ممالک کے درمیان سیکیورٹی معلومات کے تبادلے اور غیر ملکی پائلٹس کی جانچ پڑتال کے موجودہ نظام کی مؤثریت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔واقعے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کو غیر ملکی شہری ہوابازی سے متعلق تمام سیکیورٹی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک ماہر مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارے شن بیت کے مطابق غیر ملکی پروازوں کے مسافروں کی فہرستوں کی جانچ کی ذمہ داری وزارتِ ٹرانسپورٹ سے متعلق ہے۔ دوسری جانب وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ ہر پرواز کے ہر مسافر کی الگ سے مکمل جانچ کرنا موجودہ نظام اور دستیاب صلاحیتوں کا حصہ نہیں۔
واقعے کے بعد اسرائیلی اداروں اور وزارتِ ٹرانسپورٹ کے درمیان ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی اختلاف سامنے آیا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت کو مسافروں کی فہرست یا کسی ممکنہ خطرے سے متعلق کوئی انتباہ موصول نہیں ہوا تھا، جبکہ دیگر حکام کے مطابق مسافروں اور عملے کی معلومات کا تبادلہ معمول کی بین الاقوامی ہوابازی کارروائی کا حصہ ہے۔دوسری جانب آسٹریلوی انسدادِ دہشتگردی حکام بھی شریک پائلٹ کے آسٹریلیا سے ممکنہ روابط کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ تقریباً ایک دہائی قبل طالب علم کی حیثیت سے آسٹریلیا میں موجود رہا تھا۔
واقعے کے دوران حملہ روکنے اور طیارے میں موجود مسافروں کی جانیں بچانے میں مدد دینے والے افراد کو اسرائیل میں ہیرو قرار دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر بین الاقوامی سطح پر تحقیقات جاری ہیں۔