او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا اجلاس ہوا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور انسانی حقوق کی بگڑتی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور یوسف ایم الدوبیع کی زیر صدارت ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، نائجر اور آذربائیجان کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی نے خطاب میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت پر او آئی سی اور رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بھارت کے ظالمانہ قوانین، جبر، آبادیاتی تبدیلیوں اور اگست 2019 کے بعد بڑھتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا۔

طارق فاطمی نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشمیر مسئلے کا مذاکراتی حل ناگزیر ہے، اور او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر جبر کے خاتمے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالے۔رکن ممالک نے کشمیر کو او آئی سی کے ایجنڈے میں اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کی جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور تنازع کے پرامن حل کے لیے نئی کوششوں پر زور دیا۔ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی منظور کیا گیا۔