کسی بھی آپریشن میں عام شہریوں کی شہادت قبول نہیں، افغانستان سے مذاکرات کی تجویزپرتنقید کا نشانہ بنایا گیا، حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے،نام مانگ لئے
صوبے میں فوجی کارروائیاں آئین کے تحت ان کا حق ہے،ہمارا اختیار نہیں ہم انھیں روک سکیں‘محسن نقوی نے ہر محکمے اور ہر ادارے کو تباہ کردیا
پشاور(آئی این پی)وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کسی بھی آپریشن میں عام شہریوں کی شہادت قبول نہیں۔ آپریشن کے بجائے مذاکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہیں۔ حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے،نام مانگ لیے، افغانستان سے بات چیت کیلئے اس ہفتے قبائل کے وفد کے نام وفاق کو بھجوا دئیے جائیں گے۔ حکومتی سطح پر جلد افغانستان سے مذاکرات ہوں گے۔ صوبے میں فوج جو کارروائیاں کر رہی ہے وہ آئین کے تحت ان کا حق ہے، اس پر ہمارا اختیار نہیں کہ ہم انھیں روک سکیں، اس جنگ کو کیسے لڑنا چاہیے وہ یہ ہے کہ مذاکرات کرنے چاہییں اور یہ جو کارروائیاں ہو رہی ہیں یہ مسئلے کا حل نہیں ہے،افغانستان سے مثبت پیغام آیا ہے، ان سے صوبائی حکومت مذاکرات کریگی،ملک کے اندر لاقانونیت ہے محسن نقوی نے ہر محکمے اور ہر ادارے کو تباہ کردیا ہے،ہم آزادی کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور پشاور میںجلسہ کرکے ثابت کریں گے کہ پوری قوم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ افغانستان میں بات چیت کی پیش کی، تنقید کی گئی، یہ وفاق کا مینڈیٹ ہے ہم نے ان سے بات کی ہے، اس ہفتے قبائل کے وفد کے نام وفاق کو بھجوادئیے جائیں گے۔وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے کہا کہعلی امین گنڈاپور نے کہا کہ ملک کے اندر لا قانونیت ہے، ہمارے خلاف تمام کیسز بے بنیاد ہیں، ہم آزادی کے
مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں ۔ 27 ستمبرکو بانی پی ٹی آئی کے حکم پر جلسہ کررہے ہیں، ہم بڑا جلسہ کرکے ثابت کریں گے کہ لوگ بانی کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا، ہم اپنا حق حاصل کریں گے، ہماری اور بانی پی ٹی آئی کی پالیسی رہی ہے کہ مذاکرات ہی حل ہے۔ 'پورا صوبہ جب اکٹھا ہوگا تو اس کے لائحہ عمل پر بھی بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ادارے آئین کے مطابق کام کریں، ہم عوام کی حقیقی جنگ لڑ رہے ہیں