ٹی ایل پی پر پابندی عمران خان کے دور میں اور پی ٹی آئی قیادت کرائے پر لائی گئی:فواد چوہدری

 ٹی ایل پی پر پابندی عمران خان کے دور میں اور پی ٹی آئی قیادت کرائے پر لائی گئی:فواد چوہدری

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم سیاسی اور قانونی بیانات دیے۔

 انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی، عمران خان کے دور میں 2021 میں عائد کی گئی تھی، اور موجودہ پی ٹی آئی قیادت کرایے پر لائی گئی ہے۔ فواد چوہدری نے یہ بھی الزام لگایا کہ پی ٹی آئی قیادت لندن اور کینیڈا میں جاتی ہے، جبکہ ان کے وکلا عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔انہوں نے پاکستان کی داخلی اور خارجی صورت حال پر بھی روشنی ڈالی، کہا کہ پاکستان میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی خدمات کو سراہا گیا ہے، خاص طور پر سعودی عرب کی جانب سے۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئی اور بین الاقوامی کمپنیاں واپس جارہی ہیں۔ فواد چوہدری نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو ملک میں استحکام لانے کی ضرورت ہے۔مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے حکومتی مذاکراتی رویہ کو سراہا ہے، اور کہا کہ ماحول کو پر امن بنانے کے لیے ٹمپریچر کم کرنے کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی بھی درخواست دی تاکہ وہ گھر جا سکیں، جس سے صورتحال پر مثبت اثر پڑے گا۔فواد چوہدری نے سیاسی مخالفین پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو کرایہ پر لایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی پر پابندی عمران خان کے دور میں ہی لگائی گئی تھی، اور مریم نواز کے نیب آفس پر پتھراؤ کی ویڈیوز موجود ہیں، جن سے ان کے الزامات کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف جھوٹے کیسز بنائے گئے ہیں۔قانونی حوالے سے، فواد چوہدری انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کے خلاف مغلپورہ، زمان پارک اور جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ان کی عبوری ضمانت 28 نومبر تک بڑھا دی ہے۔