صنعت و زراعت کے شعبے ترقی کریں گے تو ملک کو قرضوں سے نجات ملے گی، کاروباری ماحول کو بہتر اور صنعتی و زرعی شعبے کی مسابقت کو بڑھانے کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے
، بہتر پالیسیاں اور یکجہتی سے پاکستان جلد معاشی خودمختاری حاصل کرے گا،اس پیکیج کے تحت دی جانے والی بجلی کا بوجھ نہ تو گھریلو صارفین نہ ہی دیگر شعبوں پر ڈالا جائیگا:شہباز شریف کی کاروباری برادری کے وفد سے گفتگو
اسلام آباد (آئی این پی )وزیر اعظم شہباز شریف نے صنعتوں اور کسانوں کیلئے رعایتی بجلی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعت و زراعت کے شعبے ترقی کریں گے تو ملک کو قرضوں سے نجات ملے گی،صنعت و زراعت کے شعبوں کو 23 روپے فی یونٹ رعایتی بجلی فراہم کریں گے ۔زیر اعظم نے صنعتی و زرعی شعبے کے ماہرین و کاروباری برادری کے وفد سے ملاقات کی۔ انہوں نے صنعتوں اور کسانوں کے لئے رعایتی بجلی کے پیکج کا اعلان کر دیا۔ پیکج کے تحت صنعتوں، کسانوں کو آئندہ 3 سالوں(نومبر 2025 سے اکتوبر 2028 )میں رعایتی قیمت پر اضافی بجلی فراہم کی جائے گی۔اس موقع پر وزیرِ اعظم نے صنعتی اور زرعی شعبے کے ماہرین، کاروباری برادری اور وفد سے ملاقات میں کہا کہ اگر صنعت و زراعت ترقی کریں گی تو ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات ملے گی اور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم اور بہتر حکومتی پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت کے اشارے مثبت سمت میں جا رہے ہیں، تاہم ہمیں مل کر مزید محنت کرنی ہو گی تاکہ ملک کی معیشتی خودمختاری جلد حاصل کی جا سکے۔وزیرِ اعظم نے بتایا کہ روشن معیشت بجلی پیکیج کے تحت صنعتی شعبے کو 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کی رعایتی قیمت پر بجلی فراہم کی جائے گی، جو اس وقت 34 روپے فی یونٹ ہے۔ اسی طرح زرعی شعبے کو بھی فی یونٹ بجلی کی قیمت 38 روپے سے کم کرکے یہی نرخ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ رعایتی بجلی پیکیج پورے تین سالوں یعنی نومبر 2025 سے اکتوبر 2028 تک جاری رہے گا، جس سے صنعتوں اور کسانوں کو اضافی یونٹس رعایتی قیمت پر دستیاب ہوں گے۔شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ اس پیکیج کے تحت دی جانے والی بجلی کا بوجھ نہ تو گھریلو صارفین پر ڈالا جائے گا اور نہ ہی دیگر شعبوں پر۔ انہوں نے وزیر بجلی سردار اویس لغاری اور ان کی ٹیم کی اس منصوبہ بندی اور پیکیج کی تیاری میں نمایاں کوششوں کو سراہا۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے صنعت و زراعت کی ترقی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور صنعتی و زرعی شعبے کی مسابقت کو بڑھانے کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے