ٹی ایل پی رہنماوں نے نفرت انگیز تقاریر کیں، مذہبی تنظیم فرقہ وارانہ انتہا پسندی اور اقلیتوں کیخلاف تشدد میں ملوث ہے، ہجوم نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا:چارج شیٹ

وفاقی کابینہ اجلاس  ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری  وزارت قانون ریفرنس سپریم  کورٹ بھیجے گی
کابینہ نے ضابطے کی کارروائی کیلئے  وفاقی وزارتِ داخلہ کو احکامات جاری کر دیئے، حکومت پنجاب نے ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی،جس کے ساتھ چارج شیٹ بھی وفاقی حکومت کو بھیجی گئی تھی
وزارتِ داخلہ کی سفارشات میں ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے کئے  گئے نقصانات کی رپورٹ بھی شامل ہے،   پابندی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن الیون بی ون کے تحت تجویز کی گئی

 اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی۔  وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی منظوری دی گئی، کابینہ نے ضابطے کی کارروائی کیلئے وفاقی وزارتِ داخلہ کو احکامات جاری کر دیے۔تاہم حتمی فیصلے کے لیے ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا جہاں جماعت کو دفاع کا حق ملے گا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی، اس حوالے سے مذہبی جماعت ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کے لیے غور کرنے کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ٹی ایل پی پر پابندی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن الیون بی ون کے تحت تجویز کی گئی۔چارج شیٹ کے مطابق ٹی ایل پی کے رہنماوں نے نفرت انگیز تقاریر کیں، مذہبی تنظیم فرقہ وارانہ انتہا پسندی اور اقلیتوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہے، ٹی ایل پی کے ہجوم نے تشدد کیا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔وزارتِ داخلہ کی سفارشات میں ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے کیے گئے نقصانات کی رپورٹ بھی شامل ہے، پرتشدد مظاہروں کے بعد پنجاب حکومت نے وفاق سے ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش کی تھی۔