واشنگٹن(آ ئی این پی )ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ یوکرین کے حوالے سے تجاویز امریکی پالیسی کا حصہ ہیں جبکہ چند سینیٹرز کے دعوئو ں کو بھی مسترد کیا ہے جنہوں نے منصوبے کو روس کی وِش لسٹ یعنی خواہش قرار دیا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تجویز کردہ 28 نکاتی منصوبہ امریکہ نے ہی تیار کیا ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ 28 نکاتی منصوبے کو آئندہ چند روز میں قبول کرے، جس کے تحت یوکرین ڈونباس کا خطہ روس کے حوالے کر دے گا۔تاہم مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد کئی امریکی سینیٹرز نے پریس کانفنرس میں اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ریپبلکن مائیک رانڈز، آزاد سینیٹر اینگس کنگ اور ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے جین شاہین نے کہا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا تھا کہ یوکرین منصوبہ امریکہ کا سرکاری مقف نہیں ہے بلکہ روس کی خواہشات کی فہرست پر مبنی ہے۔سینیٹر مائیک رانڈز نے کہا، جو انہوں(روبیو) نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ امریکہ کی تجاویز نہیں ہیں۔ یہ تجاویز کسی کو موصول ہوئی تھیں جو ان تجاویز میں روس کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ(مسودہ) وٹکاف کو دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ سٹیو وٹکاف صدر ٹرمپ کے سفارتی مشیر ہیں۔سینیٹر مائیک رانڈز نے مزید کہا کہ یہ ہماری تجاویز نہیں ہیں۔ یہ ہمارا امن منصوبہ نہیں ہے