کرک : جرگہ اور ہزاروں افراد کا امن مارچ، جنگ مسترد، امن، امن چاہیے کے نعرے

 صوبے میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے،اپنے وسائل اور معدنیات پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا،مقررین
کرک ( آئی ا ین پی )خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں امن کے قیام کے لیے نکالی گئی۔ امن پاسون ریلی میں عوام کی بڑی تعداد نکل آئی۔ہزاروں افراد نے اس مارچ میں شرکت کی، جو دو کلومیٹر سے زائد طویل ریلی کی شکل میں نکالی گئی۔ مارچ میں سینکڑوں کاریں اور موٹر سائیکلیں بھی شامل تھیں، جبکہ ضلع کے مختلف علاقوں سے آئے شہریوں نے امن، امن چاہیے کے نعرے بلند کیے۔امن پاسون کے دوران شرکا نے واضح پیغام دیا کہ کرک کے عوام کسی بھی طرح کی پرتشدد کارروائیوں اور ڈالری جنگ کو مسترد کرتے ہیں۔ مارچ کا آغاز جیل چوک سے ہوا اور ہزاروں افراد پر مشتمل ریلی سٹی تک پہنچی، جس میں دو اراکینِ قومی اسمبلی، تین میئرز اور بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔اس موقع پر مشتاق احمد خان نے کہا کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں بلکہ ان میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کسی بھی جگہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے اور اپنے وسائل اور معدنیات پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔انہوں نے جبری گمشدگیوں کو ملک کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ماورائے قانون اور آئین کے خلاف ہے۔ شرکا نے اس موقع پر اپنے حقوق اور امن کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا۔