امریکی صدر ٹرمپ کی ایپل کو وارننگ: "بھارت میں آئی فونز بنائے تو 25 فیصد ٹیکس دینا ہوگا"

 امریکی صدر ٹرمپ کی ایپل کو وارننگ:

ویب ڈیسک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کمپنی کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کمپنی نے بھارت میں آئی فونز کی تیاری جاری رکھی، تو اسے 25 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

 اس بیان نے عالمی ٹیک انڈسٹری اور تجارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  بھارت میں تیاری پر اعتراض
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آئی فونز صرف امریکہ میں تیار کیے جائیں، بھارت میں نہیں۔انہوں نے اپنے X (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر لکھا کہ اگر ایپل نے بھارتی پلانٹس میں پیداوار بند نہ کی تو کمپنی کو 25 فیصد درآمدی ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا۔
  یورپی یونین پر بھی تجارتی دباؤ
ٹرمپ نے یورپی یونین پر بھی 50 فیصد تجارتی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ یہ نیا ٹیرف یکم جون سے نافذالعمل ہوگا۔
  قطر میں پریس کانفرنس کا پس منظر
15 مئی کو قطر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران، صدر ٹرمپ نے ایپل کے سی ای او، ٹِم کُک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں آئی فونز کی تیاری امریکی مفادات کے منافی ہے۔ان کا کہنا تھا:"انڈیا اپنے مفادات کا خیال رکھ سکتا ہے، امریکہ کو اپنے مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔"
  عالمی تجارت پر اثرات
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری ہیں۔ماہرین کے مطابق، ان بیانات سے عالمی ٹیکنالوجی انڈسٹری اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
  تجزیہ
ٹرمپ کی یہ پالیسی "امریکہ فرسٹ" ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت وہ امریکی صنعت کاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ تاہم، ٹیکنالوجی کمپنیوں کا موقف ہے کہ بھارت میں تیاری سے پیداواری لاگت کم ہوتی ہے اور عالمی مارکیٹ تک رسائی آسان ہوتی ہے۔