ایران امریکہ جنگ کے محرکات اور اثرات

سید منیر حسین گیلانی
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے فرزند آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نئے سپریم لیڈرکے طور پرمنتخب کرلیا گیا ہے۔جبکہ ایران کے اسرائیل اورمشرق وسطیٰ میںموجود امریکی اڈو ں پرجوابی حملے جاری ہیں۔ بیک ڈور سفارت کاری بھی ہورہی ہے مگر کوئی حوصلہ افزا نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ دماغ سے کم، سرمایہ دارانہ اور متکبرانہ نظر سے زیادہ سوچنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو بارود کے شعلوں میں دھکیل دیا ہے۔ جس سے عالمی معیشت کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں معاشی پہیے کو جاری رکھنے کے لالے پڑ گئے ہیں۔ چالاک اورمکار اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران پر حملے اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت اہم قیادت کو ختم کرنے کے لیے امریکی صدر کو آمادہ کیا۔پھر 28 فروری کو دونوں کی منصوبہ بندی سے امت مسلمہ کے عظیم ہیرو کو ان کے دفتر میں شہید کر دیا گیا اور’بیت رہبری‘ کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ ان دونوں بڑی شیطانی قوتوں کے ذہن میں تھا کہ قیادت کی شہادت کے ساتھ ہی ایران اور ایرانی عوام منتشر ہو جائے گی، لیکن راہ کربلا کے سپاہی کی شہادت نے قوم کے اندر ایک نئی روح پھونک دی اورایسا ولولہ جذبہ پیداکردیاکہ ایرانی عوام بلا خوف و خطر’ انتقام انتقام ‘کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔جس سے ثابت ہوا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنی زندگی میںملی وحدت کا محورتو تھے ہی ، لیکن ان کی شہادت نے چند ضد انقلاب عناصر کو بھی عوام کے ساتھ یک زباںکردیا۔شہید خامنہ ای رحمۃ اللہ علیہ کے خون نے نہ صرف ملت ایران کو متحد کیا بلکہ پوری دنیا میں صیہونیت اور امریکی فاشزم کو ننگا بھی کردیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خامنہ ای صاحب نے اپنی زندگی میں زہد و تقویٰ، جرات و بہادری اور موقع محل کے مطابق بہترین فیصلہ کرنے کا جو شعور امت کو دیا ، اسی وجہ سے پاکستان ، ہندوستان،گلگت بلتستان ، مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں لوگوں نے اس درد کو محسوس کیا اور شدید رد عمل بھی دیا ، میرے ملک کے تقریبا ً40 نوجوان خون کا نذرانہ پیش کرکے صیہونیت اور امریکیت کو باور کرواچکے ہیں کہ پاکستان کے عوام مظلوم فلسطین کے لئے خود کو خطرات میں ڈالنے والے اسلامی جمہوری ایران کے ساتھ ہیں۔اس سے نہ صرف امریکی ہم نواو ¿ں کے منہ بند ہوئے بلکہ امریکہ کے سفارتی مشن بھی بند ہوئے اوراپنے شہریوں کو ٹریول ایڈوائزری جاری کی۔شہید رہبر معظم کی شہادت کے بعد افسردہ اور دکھ بھرے ماحول میں ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنما وں کاایران کے سفارت خانے اسلام آباد، کراچی لاہوراور دیگرشہروں میں قونصل خانوں میں ہر مکتبہ فکر کے رہنماو ¿ں نے اظہار تعزیت کیا اور ایرانی قوم کو یکجہتی کا پیغام بھی دیا کہ وہ بڑی قربانی دے کرسرخرو ہوئے اور دنیا بھر کے مظلوموں کے لئے ایک نمونہ بنے۔ انہوں نے امریکہ اسرائیل کی فرقہ وارانہ اختلافات کی بنیاد پر انتشار پیدا کرنے کی سازش کو بھی مسترد 
کردیا۔ بلا تفریق شیعہ سنی ملت اسلامیہ پاکستان نے فرقہ وارانہ وابستگی سے بالا تر ہو کرشہید قیادت کو سلام پیش کیا۔جس سے مسلمانوںکے اندر اتحاد اورعوام الناس میں مظلوموں کے لیے ایک ہمدردی پیدا ہوئی ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان دونوں اہل سنت ہیں ، انہوں نے ایرانی سفارت خانے جا کر تعزیت کی اور ایرانی قیادت سے اظہار یکجہتی کا اعلان کرکے مسلکی تفریق اورتکفیری گروہ کی بھی نفی کی کہ اہل سنت اور اہل تشیع اپنے درمیان اختلافات پر کم اور مشترکات پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ ان دنوںمتحد ہونے کے حالات میں مسلکی اختلافات کو ہوا دینے والے دراصل امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کر ر ہے ہیں۔ہمارے تاریخی اور اصولی اختلافات اپنی جگہ لیکن ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت،سیدالمرسلین کی ختم نبوت ، ایک قرآن، ایک قبلہ پر یقین کا مشرکہ عقیدہ رکھنے والے ہیں۔ شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے کر اسلام کو کمزورنہیں کریں گے۔جبکہ دوسری طرف امریکی صدر اپنی حماقت کو مقدس جنگ کا نام دے کر ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں، ٹرمپ کے ارد گرد پادریوں کا اکٹھ اسی سلسلے کی تازہ ترین کوشش تھی۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے منسوب بیان کہ ہم ایران کو کمزور اس لئے کر رہے ہیں کہ وہ ختم نبوت کے بعد سلسلہ امامت کے بارہویں امام مہدی علیہ السلام کا انتظار کر رہے ہیں توواضح ہے کہ امام مہدی کا انتظار تو اہل سنت بھی کر رہے ہیں۔بہرحال امریکہ اسرائیلی چالوں میں آکر اپنی طاقت کے گھمنڈ سے گر گیا ہے۔ٹرمپ کی عالمی وسائل پر قبضے کی کوشش بھی ایران سے امریکہ کی جنگ کے پیچھے ایک محرک ہے۔چونکہ وہ تیل کی دولت سے مالا مال وینزویلا کے صدر نکولس مادورواور اس کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر کے امریکہ لے جاچکا ہے۔ دہائیوں سے عائد پابندیوں کے باوجود ایران اپنا تیل چین اور روس کو فروخت کر رہا ہے۔ امریکی صدر یہ چاہتے ہیں کہ ایران میں بھی اپنی من پسند حکومت قائم کر کے یہاں کے تیل کے ذخائرپر قبضہ کریں اور پھر جسے وہ چاہیں فروخت کریں ، اس لئے امریکہ کی مایوسی اورغصہ قابل فہم ہے۔پاسداران انقلاب مشرق وسطیٰ میںامریکی اڈوں پر حملے کر کے نقصان پہنچا رہے ہیں۔جس پرایرانی حملوں کا شکاراورامریکی فوجیوں کی میزبان عرب ریاستوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی عرب میں ہونے والی ملاقات میں ایران کو سمجھانے کی بات کی کہ ہم پر حملے نہ کریں۔اسی تناظر میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے عرب ریاستوں پر آئندہ حملے نہ کرنے کی مشروط یقین دہانی کروائی ہے، البتہ واضح کیا کہ جب تک ان ریاستوں میں قائم امریکی اڈوں سے ایران پر حملے نہیں ہوں گے ،وہ جوابی حملے بھی نہیں کریں گے۔ اگرحملے ہوئے تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے، ایک طرف تنہا ایران اور دوسری طرف دو بڑی جنگی طاقتیں مدمقابل ہیں۔عالمی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ ان حالات میں پاکستان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، جس کے امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات ہیں اور ایران کے ساتھ بھی۔۔