شارجہ: بھکاری کے پاس سے 14 ہزار درہم (10 لاکھ روپے) برآمد، گرفتار

شارجہ: بھکاری کے پاس سے 14 ہزار درہم (10 لاکھ روپے) برآمد، گرفتار

شارجہ پولیس نے ایک غیر قانونی بھکاری کو گرفتار کیا ہے، جس کے پاس سے 14 ہزار درہم (پاکستانی 10 لاکھ روپے سے زائد) کی خطیر رقم برآمد ہوئی۔

 یہ شخص صرف تین دن میں عوام کی ہمدردی کا فائدہ اٹھا کر اتنی بڑی رقم جمع کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

واقعے کی تفصیلات:
ایک مقامی شہری نے پولیس کو اطلاع دی کہ مسجد کے باہر ایک شخص مالی مشکلات کا بہانہ بنا کر بھیک مانگ رہا ہے۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس کی شناختی تفصیلات چیک کیں، جہاں یہ انکشاف ہوا کہ وہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ہے۔گرفتاری کے بعد اس کے پاس سے 14 ہزار درہم کی نقد رقم برآمد ہوئی، جو اس نے صرف تین دن میں بھیک مانگ کر جمع کی تھی۔
پولیس کا ردعمل:
بریگیڈیئر جنرل عمر الغزال الشامسی (گداگری کے خلاف خصوصی ٹیم کے سربراہ) نے کہا کہ گداگری سیکیورٹی اور سماجی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ بھکاری اکثر ہمدردی کے جذبات کا فائدہ اٹھا کر بڑی رقم کما لیتے ہیں، جو بعض اوقات جرائم کی مالی معاونت کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
شارجہ پولیس کی مہم:
شارجہ پولیس نے "بھیک مانگنا جرم ہے، دینا ذمہ داری ہے" کے عنوان سے ایک مہم شروع کی ہے، جو رمضان کے آغاز سے جاری ہے۔اس مہم کے تحت سادہ لباس میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو گداگری کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھکاریوں کو رقم نہ دیں، بلکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع پولیس ہیلپ لائن 80040 یا کال سینٹر 901 پر دیں۔
گرفتاری اور قانونی کارروائی:
گرفتار ملزم کے خلاف غیر قانونی رہائش اور گداگری کے الزامات پر مقدمہ چلایا جائے گا۔شارجہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گداگری کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے گی، خاص طور پر رمضان کے دوران جب بھکاریوں کی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔یہ واقعہ گداگری کے پیچھے چھپے منظم جرائم کو اجاگر کرتا ہے۔ شارجہ حکام نے واضح کر دیا ہے کہ بھیک مانگنا ایک جرم ہے، اور عوام کو چاہیے کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے قانونی اور رجسٹرڈ خیراتی اداروں کا رخ کریں۔