اہم ترین اورحساس ترین بیٹھک منقسم کیوں؟

عبدالرزاق برق

 18مارچ 2025 کواسلام آباد میں پہلی باراہم ترین اورحساس ترین قومی سلامتی کے پارلیمانی کمیٹی نے ملک کے کئی اہم سربراہوں کی عدم شرکت کے باوجود سب سے بڑافیصلہ یہ کیاگیا کہ پاکستان سے ہرصورت میں دہشت گردی کاخاتمہ کرنا ہے اوراس پرکوئی۔سمجھوتا نہیں کیاجائے گا لیکن اس اجلاس میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سرداراخترمینگل محمودخان اچکزئی ڈاکٹرعبدالمالک حافظ نعیم الرحمن  کا شرکت نہ کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ اس اہم قومی سطح کے فیصلے پراتفاق رائے نہیں پایا جاتا جب ملک کے تمام سیاسی پارٹیوں کے اندراس طرح کے قومی سطح کے فیصلے پراتفاق رائے نہیں توپھراس فیصلے سے ملک اورعوام کو کیافائدہ پہنچے گے ؟ اگرچہ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف بھی غیرحاضر تھے وزیرداخلہ محسن نقوی کوتوہرصورت میں موجودہونا چاہیے تھا بلوچستان کی سیاسی قیادت جوووٹ کی بنیادپر صوبے میں سیاست کرتی ہے ان کوبھی اعتماد میں نہیں لیاگیا اسی طرح اس صوبے کے اہم سیاست دان اوررکن قومی اسمبلی محمودخان اچکزئی بھی شریک تھے نہ سرداراخترمینگل ڈاکٹرمالک بلوچ تشریف لائے  اس سے ھم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہمارے اہم۔ترین لوگ اس اہم ترین کمیٹی کوکیا اہمیت دے رہیے تھے اورہمارے قومی قیادت حالات کی نزاکت کا احساس نہیں کررہی ہیے اورسیاسی اختلافات اتنے گہرے ہوتے جارہیے ہیں کہ حکومت اوراپوزیشن ملکی سلامتی کے معاملے پربھی ایک ساتھ نہیں بیھٹ سکتے کیونکہ پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نے سیاسی رہنماوں کو ایک موقع فراہم کیاتھا لیکن فریقین کی ضدکی وجہ سے بھی یہ موقع ضائع کیاگیا ایک طرف پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن نے عمران خان سے پیشگی ملاقات کی۔شرط رکھ دی تودوسرے طرف حکومت نے اسے مستردکردیا حالانکہ عمران خان سے تقریباّروزانہ ان کے پارٹی رہنماوں کی ملاقاتیں ہوتی ہیں اگراجلاس سے قبل پارٹی رہنماوں کی ملاقات کااہتمام کردیاجاتا تواس میں کوئی حرج نہیں تھا ویسے بھی پارلمیان کی قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس کامیاب بنانا حکومت کی زمہ داری تھی اس کا کریڈٹ بھی حکومت کوملتا اپوزیشن کے پاس بھی اجلاس میں نہ جانے کاکوئی جوازنہ رہتا قومی سلامتی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے شرکت کرنے کے لئے 14ناموں کی لسٹ دی گئی کیا یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے دباوں اورخوف سے تحریک انصاف کی کوبائیکاٹ کرناپڑا ایک اوربات بھی آج تک ریکارڈ پر ہیے جب اسی فوجی نے قومی سلامتی کمیٹی کو دہشت گردی کے بارے میں بریفنگ دے رہیے تھے تواس وقت عمران خان نے کہاتھا کہ میں ان چوروں ڈاکوں کے ساتھ نہیں بیھٹوں گا آج کیا وجہ ہیے عمران خان جیل سے ان چوروں اور ڈاکوں کے ساتھ اہم بیھٹک میں بیھٹنا چاہیتے ہیں ویسے قوم کو جمع کرنے کی اولین زمہ داری ریاست اور حکومت کی ہیے سیاست کے لئے بہت وقت پڑا ہیے مگرریاست بچانے کے لئے ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہمیں جلداس خطرے کاتدارک کرنا چاہئے جوامن کے درپے ہیے ہمیں آج بھی  قومی وحدت کی سب سے زیادہ ضرورت سیاسی مسلکی اورصوبائی عصیبتوں سے بلندہوکر آگے دیکھنا چاہیے کیا حکومت کی۔یہ زمہ داری نہیں تھی کہ ایک گھنٹے کے فاصلے پرعمران خان کواجلاس میں شرکت کے لئے لے آتے حکومت نے محمودخان اچکزئی سرداراخترمینگل کوعمران خان کے ساتھ ملنے دیتا اورعمران خان کو جیل سے صرف تین گھنٹے کے لئے ایوان میں لے آتے کیونکہ مسلہ قومی سلامتی کا ہیے قومی سلامتی بڑی چیز ہیے یاعمران خان بڑاہیے؟ اس اہم قومی سلامتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے محمود خان اچکزئی سرداراختر مینگل ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ اور تحریک انصاف  کو حکومت وقت نے کیوں کنونس نہیں کیا؟ ہمارے سامنے نوازشریف کی مثال بھی موجود ہیے جوعمران خان کو اے پی سی میں شرکت کے لئے وزیراعظم ہاوس میں لے آئے تھے ماضی میں بھی سیاسی قیادت میں اختلافات رہیے ہیں لیکن 1965کی جنگ ہو1971 میں دشمن کی سازشیں ہو یاپیشاورآرمی پبلک سکول کاحملہ ہو سیاسی قیادت اختلاف بھلاکر قومی کاز کے لئے متحدہوجاتی تھی 1965 میں بھارت کے ساتھ جنگ برپاہوا توایوب خان کاعہدجبرمعمولی نہیں تھا جماعت اسلامی کوخلاف قانون قراردیا گیا مولانا مودودی کوسزائے موت سنائی گئی دیگررہنما بھی زیرعتاب رہیے قومی مفاد مگرسب نے مقدم رکھا ذوالفقارعلی بھٹو شملہ معاہدے کے لئے بھارت روانہ ہوئے توحزب اختلاف کے رہمناوں نے انہیں رخصت کیا  اب بھی سیاسی رہنماوں کوایسے اتحادکامظاہرہ کرناہوگا  اورہمیں ناراض سیاسی لوگوں کوقریب لاناچاہیے  اس میں بھی کوئی حرج نہیں تھا کہ تحریک انصاف کواجلاس میں شرکت کرلینی چاہئے تھی یہ اس لئے کہ جب پاکستان کی بات آجاتی ہیے توآنکھوں پر جوسیاسی پٹھی لگائی گئی ہے اس سے اتارکرپاکستان کی جانب دیکھنا چاہیے ہمیں ریاست کا ساتھ دینا چاہئے آج یکسوئی کی ضرورت ہیے اورہمیں سیاسی بصیرت کی ضرورت ہیے تاھم اس اہم اجلاس کے بعد وزیراعظم وزیراعلی اوربعض وفاقی وزراء￿  جس طرح گفتگو اورالزام تراشی کررییے ہیں وہ سیاسی تقسیم مذیدگہری ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اوراس پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی افادیت پرمذیدسوالات پیداہورہیے ہیں کیا ہی اچھاہوتا کہ وفاقی وزیرمملکت طلال چوہدری اپنی پریس کانفرنس کے دوران بھی اس حساس معاملے کوملحوظ رکھتے اوراپوزیشن پرالزام تراشی کے بجائے حکومت انہیں دہشت گردی کے خلاف اپنے ساتھ ملاکر تے اورفضا بہتر بنانے کے لئے کام کرتی اس طرح اپوزیشن کی بھی زمہ داری بنتی کہ ملکی سلامتی کے معاملے پرحکومت کاساتھ دیتے  قومی۔سلامتی کے اجلاس کا جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہواہیے اس کو دیکھنے کے بعد یہی احساس ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت سمیت اسٹبلیشمنٹ نے ماضی کی غلطیوں سے بہت زیادہ نہیں سکھا دہشت گردی کی یہ جنگ سیاسی بیان بازی روایتی جملوں یا الزام تراشیوں پرمبنی سیاست کی بنیاد پرنہیں جیتی جاسکتی اس مشترکہ علامیہ میں بھی مستقبل کے تناظر میں بہت سے دعوے کئے گئے ہیں لیکن ان دعوں پرکیسے عمل۔درآمدہوسکے گا اورکیسے ریاست یاحکومت مختلف فریقین کواعتماد میں لے کر آگے بڑھ سکے گی اس پر کئی سوالیہ نشان دیکھنے کوملے ہیں جس میں یہی کہاگیا ہیے کہ ھم دہشت گردی کامقابلہ طاقت سے کریں گے لیکن اس جنگ سے نمٹنے کے حکومتی سطح یاریاستی سطح پر کیا حکمت عملی ہیے اس کا فقدان بہت واضح نظرآتاہیے دلچسپ بات یہ ہے کہ محمودخان اچکزئی حافظ نعیم الرحمن عمران خان افغانستان سے بہترتعلقات کے حامی ہیں اوران کے بقول ہمیں بلاوجہ افغانستان سے الجھنے کے بجائے ان کے ساتھ اپنے سیاسی اورسفارتی معاملات کوبہترسمت دینے ہوگی کیونکہ اگرافغانستان کے ساتھ تعلقات میں زیادہ بگاڑ پیداہوتا ہیے تواس کابراہ راست اثر ہماری داخلی سیاست میں مذیددہشت گردی کی صورت میں سامنے آسکتا ہیے لیکن حکومت بضدہیے کہ ھم طاقت کاراستہ اختیارکرنا ہیے قومی سلامتی کے اجلاس سے آرمی۔چیف نے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو نرم نہیں بلکہ۔سخت گیرریاست بنائیں ان کے بقول ملکی سلامتی سے بڑاکوئی ایجنڈا نہیں ہم گورننس کے خلاکو کب تک فوج اورشہداء￿  کے خون سے بھرتے رہیں گے لیکن ھم نے کھبی غورکیا ہیے کہ گورننس کاگیپ کیوں اورکیسے ہیے جب 17سیٹوں والی پارٹی کواردلیوں کی طرح ملک پر مسلط کیاجائے گا عوام کے اصلی منتخب نمائندوں کودھاندلی سے ہرایاجائے جب بندوق اورڈنڈے کے زورسے ملک چلانے کی کوشش کی جائے گی توگورننس کاگیپ ہی آنا ہیے اب بھی وقت ہیے کہ پاکستان کے تمام ادارے آئین میں دی گئی حدودوقیود میں واپس جائیں اورعوام کے منتخب نمائندوں کوحکومت واپس دی جائے تاکہ دہشت گردی سمیت تمام ملکی مسائل کاسیاسی اورپائیدارحل نکالاجائے جب ہرادارے اورہرشعبے میں ٹانگیں پھنسا نے کاشوق ہو توپھرایساہی ہوتا ہیے جس دن ہمارے اہلکار کی۔آولین ترجیح پاکستان کے آئین اورقانون کے تحت ملک کے باڈراورسیکورٹی ہوگئی توملک میں امن قائم ہوگا کیونکہ یہ۔ملک کسی طاقتوراہل کار یاسرکاری عہدیدارنے جنگ کے زریعے نہیں جیتا بلکہ ایک سیاسی جدوجہداورایک سیاست دان کی۔غیرمعمولی کاوشوں کے نتیجے میں وجودمیں آیا ہے لیکن ہمارے نوازشریف ہو زرداری یاعمران خان یہ جب کروڑوں ووٹ لے کر آتے ہیں جب یہ اپنی مرضی سے حکومت نہیں کرسکے تو پھرسوچھیں کہ عام انسان کی قدرپاکستان میں کیاہوگی ایک اہم بات یہ بھی ہیے کہ اگردس سال قبل aps پشاورکے سانحہ کے بعدمنعقدکی گئی اے پی سی میں کئے گئے دعووں اوروعدوں پرمکمل۔عمل درآمدکیاجاتا توجعفرایکسپرس ٹرین کا خونی سانحہ بھی قطعی طورپرپیش نہ آتا