عبد الغنی شہزاد
26ویں آئینی ترامیم کے نتیجے میں پاس ہونے والے بلز میں سے صرف مدارس رجسٹریشن بل پر دستخط نہ کرنے کے صدر مملکت آصف علی زرداری کے طرزِ عمل سے دینی سطح پر سخت تشویش اور بے چینی پیدا ہوئی ہے ، اس کا جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے نہایت سختی سے نوٹس لیتے ہوئے سکھر میں ایک عوامی شو کے ذریعے واشگاف الفاظ میں آصف علی ذرداری کو متنبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دستخط کرکے جمہوریت اور آئین کی پاسداری کریں۔ شاید اس پریشانی کے باعث بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پہنچ کر معاملات کو نارمل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کے چند گھنٹے بعد خبر چلی کہ مدارس رجسٹریشن بل پر اعترضات لگاکر یہ کہہ کر صدر مملکت نے دستخط سے انکار کیا ہے کہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ اس خبر نے ماحول نے ایک اور تہلکہ مچادیا شاید یہی وجہ ہے کہ فیصل واڈا اس کے بعد رانا ثناء اللہ نے بھی ملاقات کی اب شاید جوائنٹ سیشن کے ذریعے بل دوبارہ پاس کیا جائے گا۔اس پر صدر کے دستخط ضروری نہیں ہوں گے۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان، جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد اسلامی اصولوں اور اقدار پر رکھی گئی تھی۔ اس ملک میں دینی مدارس کو ہمیشہ دین کی خدمت اور علم کے فروغ کے مراکز کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ تاہم، افسوسناک امر یہ ہے کہ آج وہی مدارس، جو آئین کے دائرے میں رہ کر کام کر رہے ہیں، بنیادی آئینی حقوق سے محرومی کا شکار ہیں۔دینی مدارس کو رجسٹریشن، فنڈنگ، اور انتظامی امور کے نام پر دباؤ میں رکھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ان کی آزادی متاثر ہو رہی ہے بلکہ لاکھوں طلبہ اور اساتذہ کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، لیکن دینی مدارس کو بار بار مشکوک نظروں سے دیکھا جانا اور ان کے خلاف بے جا پابندیاں لگانا ان حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہر دور میں مدارس کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے جوڑ کر نہ صرف ان کی حیثیت کو مجروح کیا گیا بلکہ انہیں عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔مدارس کے خلاف یہ بیانیہ دراصل مغربی طاقتوں کے دباؤ کا نتیجہ ہے، جسے ہمارے حکمران اپنی سیاسی بقا کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ بلیک میلنگ کے اس کھیل میں نہ صرف مدارس کے نظام کو متاثر کیا گیا بلکہ ان سے جڑے لاکھوں غریب طلبہ اور ان کے خاندانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مدارس کو کبھی رجسٹریشن کے بہانے دباؤ میں لایا گیا تو کبھی ان کے مالی وسائل کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔حقیقت یہ ہے کہ مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کی یہ پالیسی نہ صرف ہمارے قومی مفادات کے خلاف ہے بلکہ یہ عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ مدارس کے خلاف بے بنیاد الزامات اور سخت قوانین کا نفاذ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکمران طبقہ اپنی حکمرانی کو مضبوط کرنے کے لیے عوام کو تقسیم کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔یہ وقت کی ضرورت ہے کہ حکمران مغرب کی خوشنودی کے بجائے قومی مفادات اور عوامی جذبات کو ترجیح دیں۔ مدارس ہمارے معاشرے کا اہم ستون ہیں اور انہیں سیاست یا بین الاقوامی دباؤ کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے ان کی اصلاح اور ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں