قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔
محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں موجودہ حکومت کو "غیر قانونی" قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ اپوزیشن کو احتجاج اور ریلیوں کے حق سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے آئینی و قانونی ہونے کا دفاع کیا، جس کے بعد اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے ایوان کے اندر قومی اداروں پر تنقید سے روک دیا۔اسپیکر کے ریمارکس پر اپوزیشن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں اختلافِ رائے کو دبانے کے مترادف قرار دیا۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا مقصد حکومت سے مذاکرات کو فروغ دینا تھا، تاہم حالیہ پارلیمانی صورتحال میں تصادم کا عنصر زیادہ نمایاں نظر آ رہا ہے۔پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے بھی توقعات پوری نہ ہونے کی صورت میں قیادت کے حوالے سے سخت فیصلوں کے اشارے دیے گئے ہیں، جبکہ حکومتی اور اپوزیشن رہنما اس معاملے پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔