عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نیچے آگئی ہیں۔
اس کمی کی بڑی وجہ یہ قرار دی جا رہی ہے کہ خلیج فارس میں پھنسے آئل ٹینکرز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس سے تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات میں کمی آئی ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمت 78 سینٹ (1 فیصد) کمی کے بعد 76.30 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 78 سینٹ (1.1 فیصد) گر کر 72.43 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ منگل کے روز بھی دونوں بینچ مارک تقریباً ایک فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئے تھے اور مارچ کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں صورتحال بہتر ہونے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول پر آنے کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے، تاہم جہازوں کی آمدورفت اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔قیمتوں میں کمی کی ایک اور وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر پابندیوں میں عارضی نرمی بھی بتائی جا رہی ہے، جس کے تحت ایران کو تیل کی فروخت کی اجازت ملی ہے۔ لبنان میں کشیدگی میں کمی نے بھی مارکیٹ کے خدشات کو کم کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں مزید پیش رفت ہوئی تو تیل کی قیمتیں مزید نیچے آ سکتی ہیں اور جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ سکتی ہیں۔
دوسری جانب عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری انتظامات سے متعلق مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز تین بڑے سپر ٹینکر آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزرے۔ اقوام متحدہ کے بحری ادارے کے مطابق خطے میں کشیدگی میں کمی کے بعد پھنسے ہوئے جہازوں اور ملاحوں کے لیے انخلا اور محفوظ راستے کا منصوبہ جاری ہے۔امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کے مطابق حالیہ ہفتے میں امریکا کے خام تیل کے ذخائر میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو مارکیٹ میں طلب و رسد کے توازن کو ظاہر کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکا-ایران مذاکرات کی پیش رفت عالمی تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کرے گی۔