آزاد کشمیر: بحران سے استحکام تک

 تنویر الاسلام
آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی و سماجی کشیدگی کے دوران قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع پورے کشمیری معاشرے اور پاکستان کے عوام کے لیے ایک گہرا اور دردناک لمحہ فکریہ ہے۔ ان سانحات میں جاں بحق ہونے والے عام شہری ہوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان، ہر انسانی جان کا نقصان ایک اجتماعی المیہ ہے۔
یہ واقعات ہمیں ایک بنیادی اور فیصلہ کن سوال پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں: کیا ہم اپنے داخلی، معاشی اور انتظامی اختلافات کا حل سڑکوں پر تصادم اور محاذ آرائی میں تلاش کریں گے، یا سیاسی بصیرت، اسٹریٹجک صبر، آئینی عمل اور باوقار مکالمے کے ذریعے؟ یہ سوال محض موجودہ بحران تک محدود نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی مستقبل، قومی استحکام اور مسئلہ کشمیر کے وسیع تر مفاد سے جڑا ہوا ہے۔
لائن آف کنٹرول کے اْس پار، مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019ء￿  کے بعد کیے گئے اقدامات نے خطے کی آئینی حیثیت، سیاسی شناخت اور آبادیاتی ساخت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دفعہ 370 کی منسوخی، ریاست کی تقسیم اور نئے ڈومیسائل قوانین کے نفاذ نے خطے کی تاریخی شناخت اور آبادیاتی توازن کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کیے ہیں۔
ایسے وقت میں، جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنی تاریخ کے ایک کٹھن اور غیر یقینی دور سے گزر رہے ہوں، آزاد کشمیر جیسے مرکزی خطے میں پیدا ہونے والی کوئی بھی داخلی کشیدگی محض ایک مقامی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہتی۔ اس کے اثرات مسئلہ کشمیر کے مجموعی مقدمے، ہماری اخلاقی ساکھ اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی مؤقف تک پہنچتے ہیں۔ تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ قومی تحریکیں بیرونی دباؤ کے ساتھ ساتھ داخلی تقسیم، باہمی بداعتمادی اور سیاسی انتشار سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔
مسئلہ جموں و کشمیر ایک مضبوط تاریخی اور قانونی پس منظر رکھتا ہے جسے عالمی برادری نظرانداز نہیں کر سکتی۔ اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے ہند و پاکستان (UNCIP) نے 13 اگست 1948ء￿  اور 5 جنوری 1949ء￿  کو قراردادیں منظور کیں، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے اصول کو تسلیم کیا گیا۔
ان قراردادوں کے وسیع تر اصولوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تنازع کے باعث بے گھر ہونے والے افراد اپنے بنیادی سیاسی اور شہری حقوق سے محروم نہیں ہوتے۔ یہ قراردادیں آج بھی مسئلہ کشمیر کے قانونی اور سفارتی مباحث میں اہم حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔
ریاستی باشندوں کے حقوق کا تاریخی اور قانونی تصور 1927ء￿  اور 1932ء￿  کے اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین میں واضح طور پر موجود ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں نافذ کیے گئے ان قوانین نے ریاستی شناخت، باشندگی اور آبادیاتی تحفظ کو ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کی۔
پنڈت جواہر لعل نہرو اور شیخ محمد عبداللہ کے مابین 1952ء￿  میں طے پانے والے دہلی معاہدے نے ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت، داخلی خودمختاری، ریاستی باشندگان کے مخصوص حقوق اور ریاستی پرچم سمیت ریاستی شناخت کے بنیادی عناصر کے بارے میں ایک اہم سیاسی و آئینی مفاہمت کو باضابطہ شکل دی۔ 
بعد ازاں، 1975ء￿  میں اندرا–عبداللہ معاہدے نے  جس کی راہ جی پارتھا سارتھی اور محمد افضل بیگ کے مذاکرات نے ہموار کی، اس اصول کو مزید تقویت دی کہ ریاستی شناخت اور باشندگی سے متعلق حقوق مستقل نوعیت کے حامل ہیں اور انہیں یک طرفہ اقدامات کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا
1982ء￿  میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ ری سیٹلمنٹ ایکٹ ایک اہم دستوری پیش رفت تھی، جس کا مقصد 1947ء￿  کے ہنگامہ خیز حالات کے باعث ہجرت پر مجبور ہونے والے ریاستی باشندگان کو واپسی اور دوبارہ آبادکاری کا قانونی حق فراہم کرنا تھا۔ واضح رہے کہ یہ قانون بھارتی صدر کی منظوری نہ ملنے کے سبب کبھی نافذ نہ ہو سکا، تاہم اس کا بنیادی اصول ناقابلِ تردید ہے کہ ہجرت ریاستی شناخت اور اس سے وابستہ حقوق کے خاتمے کا جواز نہیں بن سکتی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے جون 2000ء￿  میں ریاست کی 1953ء￿  سے قبل کی آئینی حیثیت کی بحالی سے متعلق ایک قرارداد منظور کی۔ اگرچہ بھارتی مرکزی حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا، تاہم یہ قرارداد ریاستی خودمختاری، آئینی شناخت اور سیاسی حقوق کے مطالبے کی ایک اہم علامت کے طور پر تاریخ میں محفوظ ہے۔ اس قرارداد کی منظوری اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ جموں و کشمیر کی آئینی و سیاسی حیثیت کا معاملہ بدستور ایک متنازع اور حل طلب مسئلے کے طور پر زیرِ بحث رہا ہے۔
اس تاریخی اور قانونی تسلسل کے برعکس، بھارتی پارلیمنٹ نے دسمبر 2023ء￿  میں جموں و کشمیر تنظیمِ نو ترمیمی ایکٹ کے ذریعے خطے کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے میں مزید تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ اس قانون کے تحت آزاد کشمیر کے لیے مختص وہ 24 نشستیں جو 1951ء￿  سے خالی چلی آ رہی تھیں انہیں برقرار رکھنے کے بجائے قانونی طور پر منجمد رکھنے کی توثیق کی گئی، جبکہ لیفٹیننٹ گورنر کو 1947ء￿  میں آزاد کشمیر سے جموں منتقل ہونے والے خاندانوں اور کشمیری پنڈت برادری کے لیے مخصوص تین نشستوں پر اراکین نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا۔ مزید برآں، مغربی پاکستان سے آنے والے پناہ گزینوں کو مستقل ڈومیسائل اور سیاسی حقوق کی فراہمی ایک ایسی پیش رفت ہے جسے ریاستی شناخت، آبادیاتی توازن اور جموں و کشمیر کی متنازع آئینی حیثیت کی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
ایسے حالات میں آزاد کشمیر کے اندر کسی بھی سطح پر کمزوری یا تقسیم مسئلہ کشمیر کے وسیع تر مقدمے کو متاثر کر سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کا موجودہ بحران محض امن و امان کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ برسوں سے چلے آ رہے طرزِ حکمرانی کے نقائص، معاشی و مواصلاتی مشکلات، بے روزگاری، نظریاتی انتشار، محدود مواقع، عوامی بے چینی اور ریاستی اداروں پر اعتماد میں کمی جیسے گہرے عوامل کا مظہر ہے۔
جمہوریت کا جوہر آئینی دفعات میں نہیں، اس تہذیبی شعور میں ہے جو اختلاف کو انتشار سے اور مطالبے کو محاذ آرائی سے ممتاز کرتا ہے۔ پرامن احتجاج اسی شعور کا باوقار اظہار ہے جو ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ریاست اپنی خامیاں پہچانے اور عوام اپنے حقوق کے ساتھ اپنی قومی ذمہ داری کا بھی ادراک کریں۔
ریاست اور عوام کے درمیان تصادم کسی کی فتح نہیں، بلکہ اجتماعی شکست کا باعث بنتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پائیدار استحکام طاقت سے نہیں، بلکہ انصاف، شفاف حکمرانی اور باہمی اعتماد سے جنم لیتا ہے. جو قومیں اپنی صلاحیتوں کو تعمیر، اصلاح اور ادارہ سازی کے لیے بروئے کار لاتی ہیں وہ ترقی اور استحکام کی راہ ہموار کرتی ہیں، جبکہ انتشار اور تصادم ان کی قوت، یکجہتی اور قومی مقاصد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
بحران کے لمحات میں قیادت کا اصل امتحان یہ ہے کہ غصے کو سمت ملے، شکوہ سوال بنے اور سوال حل کی راہ دکھائے۔ مکالمہ ضعف نہیں، اس بصیرت کی علامت ہے کہ حق صرف اپنا نہیں، سامنے والے کا بھی ہے۔ حقیقی قیادت کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے مسائل کی جڑ تک پہنچتی ہے، عوامی احساسات کو سمجھتی اور قومی مفاد کو مقدم رکھتی ہے۔
قومیں طاقت سے نہیں انصاف، احترام اور اعتماد سے پروان چڑھتی ہیں۔ جب احتجاج اصلاح کا وسیلہ اور اختلاف بہتری کا ذریعہ بن جائے، تو بحران کمزور نہیں کرتے بلکہ معاشروں کو بالغ، متحد اور مضبوط بناتے ہیں۔ جہاں یہ اقدار زندہ ہوں، وہاں اختلاف انتشار نہیں، استحکام کا زینہ بن جاتا ہے۔
پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان تعلق مشترکہ تاریخ، قربانیوں اور باہمی وابستگی پر مبنی ہے۔ ایک مستحکم، جمہوری اور خوشحال پاکستان کشمیری عوام کے سیاسی، سفارتی اور انسانی مفادات کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ
 کشمیری وحدت، ادارہ جاتی مضبوطی اور اجتماعی حکمتِ عملی اس جدوجہد کی بنیادی قوت ہیں۔
آزاد کشمیر کی نوجوان نسل ہمارا قیمتی ترین اثاثہ ہے۔ انہیں علم، ہنر اور معاشی خودمختاری سے آراستہ کرنا نہ صرف خطے کے پائیدار استحکام بلکہ مسئلہ کشمیر کے مؤثر اور مضبوط مقدمے کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید دنیا میں قومی مقدمات محض نعروں سے نہیں بلکہ تحقیق، فکری بصیرت، سفارتی حکمتِ عملی، معاشی مضبوطی اور عملی استحکام کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔ لہٰذا نوجوان نسل کو صرف جذبات نہیں بلکہ علم، شعور، کردار اور تعمیری قیادت سے مضبوط بنانا ضروری ہے، تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں کا مقابلہ حکمت، ذمہ داری اور بصیرت کے ساتھ کر سکیں۔
آزاد کشمیر، مہاجرینِ جموں و کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام ایک مشترکہ تاریخ، قربانیوں اور مستقبل سے وابستہ ہیں۔ قومی یکجہتی ہماری سب سے بڑی قوت اور مؤثر دفاع ہے۔
 آنے والی نسلیں ہم سے صرف ہمارے دعوؤں کا نہیں بلکہ ہمارے کردار، فیصلوں اور اجتماعی ذمہ داریوں کا محاسبہ کریں گی۔ کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف بیرونی دباؤ سے نہیں بلکہ داخلی انتشار، کمزور حکمتِ عملی، باہمی اعتماد کے فقدان اور مکالمے سے گریز کے باعث بھی اپنی اجتماعی قوت اور تاریخی مواقع کھو دیتی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اختلاف کو تقسیم نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ، اور جدوجہد کو محاذ آرائی نہیں بلکہ قومی تعمیر کا وسیلہ بنائیں۔
آج کشمیر کو محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ بصیرت، آئین پسندی، قانون کی حکمرانی، مضبوط اداروں اور دوراندیش قیادت کی ضرورت ہے۔ پائیدار حل تصادم، تلخی اور محاذ آرائی میں نہیں بلکہ مکالمے، مفاہمت، انصاف اور جمہوری اقدار کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔ یہی راستہ آزاد جموں و کشمیر کے استحکام، حقِ خودارادیت کے مؤثر سفارتی مقدمے، پاکستان–کشمیر یکجہتی اور خطے میں دیرپا امن کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
قوموں کی تاریخ نعروں سے نہیں بلکہ کردار، اجتماعی دانش اور مشکل حالات میں کیے گئے فیصلوں سے رقم ہوتی ہے۔ اگر ہم آج بصیرت، اتحاد اور ذمہ دار قیادت کا راستہ اختیار کریں تو یہی بحران ایک مضبوط، پْرامن اور باوقار مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔