آزاد کشمیر: داخلی استحکام ہی مسئلہ کشمیر کی اصل طاقت

تنویر الاسلام
دنیا کی سیاسی تاریخ بارہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ کسی بھی قومی مقدمے کی طاقت صرف اس کے تاریخی، قانونی یا سفارتی دلائل سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس معاشرے کے داخلی استحکام، قومی یکجہتی، قانون کی پاسداری اور عوامی اعتماد سے بھی وابستہ ہوتی ہے جو اس مقدمے کی نمائندگی کرتا ہے۔ جن معاشروں میں آئین کی بالادستی، مضبوط ادارے اور عوامی اعتماد موجود ہوں، ان کا مؤقف عالمی برادری میں زیادہ معتبر بن جاتا ہے۔ مسئلہ جموں و کشمیر بھی اسی اصول سے مستثنیٰ نہیں۔
5 اگست 2019 کے بعد، جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت یک طرفہ طور پر تبدیل کی، اس مسئلے نے ایک نئی سیاسی و سفارتی جہت اختیار کر لی۔ ایسے میں آزاد جموں و کشمیر کا داخلی استحکام محض مقامی ضرورت نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک تقاضا بن چکا ہے۔ آزاد کشمیر کو تحریکِ کشمیر کا سیاسی، اخلاقی اور سفارتی بیس کیمپ کہا جاتا ہے، مگر یہ حیثیت محض تاریخی حوالہ نہیں بلکہ عملی ذمہ داری ہے۔ بیس کیمپ کی اصل طاقت اس کے جغرافیے میں نہیں بلکہ اس کے اداروں کی مضبوطی اور عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔
اسی تناظر میں یہ ادراک بھی ضروری ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد نئی دہلی کا آزاد کشمیر سے متعلق بیانیہ زیادہ جارحانہ ہو چکا ہے۔ 22 فروری 1994ء￿  کی بھارتی پارلیمنٹ کی قرارداد، جس میں پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں پر دعویٰ دہرایا گیا تھا، نئے سرکاری نقشوں میں آزاد کشمیر کے اضلاع کی شمولیت اور آزاد کشمیر میں پیش آنے والے داخلی مسائل اور احتجاجی واقعات کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرنا ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانا اور بحث کا رخ تبدیل کرنا ہے۔ ایسے بیانیے کا مؤثر جواب محض سفارتی کوششوں سے نہیں بلکہ نظمِ اجتماعی، باہمی اعتماد اور قانون کی حکمرانی کو مزید مضبوط بنا کر دیا جا سکتا ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے تعلقات بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ تعلق محض جغرافیائی قربت تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، تہذیبی و مذہبی ہم آہنگی، دیرینہ سماجی روابط اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے اصولی وابستگی پر استوار ہے۔ پاکستان مسلسل مختلف عالمی فورمز پر مسئلہ جموں و کشمیر کو ایک بین الاقوامی تنازع کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کو سیاسی، آئینی، مالی اور انتظامی معاونت بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ ایسے میں آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی استحکام، مؤثر حکمرانی، مضبوط ادارے اور عوام کا بھروسہ نہ صرف پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے درمیان باہمی اعتماد اور اشتراکِ عمل کو مزید مستحکم کرتے ہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے متعلق قومی موقف کی اخلاقی ساکھ، سفارتی وزن اور بین الاقوامی اعتبار کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ ایک مستحکم، پْرامن اور منظم آزاد جموں و کشمیر لائن آف کنٹرول کے اْس پار کشمیری عوام کے لیے بھی امید، اعتماد اور حوصلے کی علامت بن سکتا ہے۔
تحریکِ آزادی سے وابستگی اور زمینی حقائق کے طویل مشاہدے نے مجھے اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کو جتنا نقصان بیرونی 
عوامل سے پہنچا، اس سے کم نقصان ہماری داخلی کمزوریوں، باہمی عدم اعتماد اور انتشار نے بھی نہیں پہنچایا۔ یہ مشاہدہ کسی فرد، جماعت یا ادارے پر تنقید نہیں بلکہ اجتماعی خود احتسابی کی دعوت ہے۔ تاریخ یہی سبق دیتی ہے کہ قومی مقاصد صرف جذبے سے نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، قومی یکجہتی، منظم اجتماعی کوشش اور داخلی استحکام سے حاصل ہوتے ہیں۔
جمہوری معاشروں کی اصل طاقت اختلافِ رائے کے خاتمے میں نہیں بلکہ اسے آئینی دائرے میں سنبھالنے کی صلاحیت میں ہوتی ہے۔ تنقید اور پْرامن احتجاج کسی بھی متحرک سیاسی معاشرے کا فطری اظہار ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے، قانون کی بالادستی اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کیا جائے۔
داخلی استحکام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اختلافات کو دبانے کے بجائے آئین، قانون اور جمہوری اداروں کے ذریعے منظم کیا جائے، جبکہ بحرانوں کا مقابلہ سیاسی بصیرت، قومی ذمہ داری اور جمہوری روایات کے مطابق کیا جائے۔ اسی تناظر میں آج آزاد جموں و کشمیر کو جس اسٹریٹجک اثاثے اور فکری بنیاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ محض سیاسی جوڑ توڑ یا وقتی عوامی مقبولیت نہیں، بلکہ مقصد سے غیرمتزلزل وابستگی، فکری یکسوئی اور ایسا اخلاقی و جمہوری کردار ہے جو داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر پوری قوم کو ایک مشترک قومی نصب العین پر متحد رکھے۔ ایسی پائیدار قومی قوت اسی وقت تشکیل پاتی ہے جب غیرجانبدار اور مضبوط ادارے، شفاف حکمرانی، قانون کی یکساں عملداری اور عوام سے مسلسل، بامعنی مکالمہ مل کر ایسا اعتماد پیدا کریں جس میں قول و فعل میں ہم آہنگی ہو، ریاستی و سیاسی قیادت ایک واضح قومی مقصد پر یکسو ہو، اور عوام کا اعتماد ریاستی اداروں پر مستحکم ہو۔
مہاجرینِ جموں و کشمیر کی سیاسی نمائندگی بھی آزاد جموں و کشمیر کی ایک اہم آئینی اور قومی ذمہ داری ہے۔ یہ محض مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کا معاملہ نہیں بلکہ ریاستِ جموں و کشمیر کی تاریخی وحدت، قانونی تسلسل اور 1947ء￿  میں جبری ہجرت پر مجبور ہونے والے لاکھوں باشندوں کے حقوق سے جڑا ایک بنیادی اصولی سوال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نمائندگی کی بنیاد ریاستی سبجیکٹ قوانین اور ریاست کے متنازعہ تشخص سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے۔ اس موضوع پر مختلف آراء￿  کا موجود ہونا فطری ہے، تاہم اس پر پیش رفت کا مؤثر راستہ سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ آئینی مکالمہ، باہمی احترام اور وسیع تر قومی اتفاقِ رائے ہے۔
بالآخر، مسئلہ جموں و کشمیر کی حقیقی طاقت صرف تاریخی دلائل، قانونی بنیادوں یا سفارتی کوششوں میں نہیں بلکہ اس اخلاقی ساکھ میں مضمر ہے جو ایک منظم، پْرامن، بااعتماد اور ذمہ دار معاشرہ اپنے اجتماعی کردار سے دنیا کے سامنے قائم کرتا ہے۔ جب کوئی معاشرہ انصاف، قانون کی حکمرانی، باہمی اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنی عملی ترجیح بنا لیتا ہے تو اس کا مؤقف محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں رہتا بلکہ ایک مضبوط اخلاقی بنیاد اختیار کر لیتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے لیے داخلی استحکام محض ایک داخلی ضرورت نہیں بلکہ مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اس کی سب سے مؤثر اخلاقی، سیاسی اور سفارتی قوت ہے۔