آزاد کشمیر انتخابا ت

 ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات ہمیشہ سے پاکستان کی سیاست میں خصوصی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ صرف یہ نہیں کہ یہ ایک آئینی و سیاسی عمل ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ مسئلہ کشمیر کی حساسیت، خطے کی جغرافیائی اہمیت اور عوامی رائے کی نمائندگی اسے غیر معمولی اہمیت عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انتخاب سے قبل سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں، مختلف جماعتیں بھرپور انتخابی مہم چلاتی ہیں اور عوام بھی اپنے نمائندوں کے انتخاب میں غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ تاہم ہر انتخاب کے بعد نتائج پر اٹھنے والے سوالات، دھاندلی کے الزامات اور انتخابی شفافیت سے متعلق بحث بھی اتنی ہی شدت سے سامنے آتی ہے۔
جمہوریت کی بنیاد آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات پر استوار ہوتی ہے۔ ووٹ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ عوام کی رائے، ان کے اعتماد اور مستقبل کے فیصلے کی علامت ہوتا ہے۔ اگر ووٹر کو یقین ہو کہ اس کا ووٹ صحیح طور پر شمار ہوگا تو جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے، لیکن اگر انتخابی عمل پر شکوک و شبہات پیدا ہو جائیں تو اس کے اثرات صرف ایک حلقے یا ایک جماعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے جمہوری ڈھانچے پر مرتب ہوتے ہیں۔حالیہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات مجموعی طور پر پرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور متعدد حلقوں میں پولنگ کا عمل بغیر کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کے مکمل ہوا۔ ووٹرز  کی ایک مناسب تعداد نے شرکت کی، خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے حق رائے دہی استعمال کیا اور کئی علاقوں میں انتخابی سرگرمیوں نے جمہوری ماحول کو تقویت دی۔ تاہم نتائج کے اعلان کے بعد مختلف حلقوں میں کئی سیاسی جماعتوں، آزاد امیدواروں اور ان کے حامیوں نے انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھائے۔

متعدد سیاسی جماعتوں  جن میں پاکستان پیپلز پارٹی ، استحکام پاکستان  پارٹی اور پاکستان  مرکزی مسلم لیگ  شامل  ہیں ،  نے الزام عائد کیا کہ بعض حلقوں میں جعلی ووٹ ڈالے گئے، پولنگ کے دوران قواعد و ضوابط پر مکمل عمل نہیں ہوا اور ووٹوں کی گنتی کے مرحلے میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ بعض امیدواروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پولنگ ایجنٹس کو بعض پولنگ اسٹیشنوں سے نکال دیا گیا یا انہیں گنتی کے عمل کی مکمل نگرانی کا موقع نہیں ملا۔ کچھ حلقوں میں فارم 24 اور دیگر انتخابی دستاویزات بروقت فراہم نہ کیے جانے پر بھی اعتراضات سامنے آئے، جبکہ بعض امیدواروں نے مسترد شدہ ووٹوں کی گنتی، نتائج میں تاخیر اور آر او دفاتر میں نتائج مرتب کیے جانے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔

کئی سیاسی رہنماؤں نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ بعض جماعتوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مطلوبہ غیر جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا، جبکہ دیگر جماعتوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی عمل کو مجموعی طور پر شفاف قرار دیا۔ ان متضاد مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ انتخابی تنازعات صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہے بلکہ مختلف حلقوں میں مختلف نوعیت کے اعتراضات سامنے آئے۔

پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا مؤقف ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے 37 جموں   4 اور دیگر حلقوں  میں انتخابی عمل کے دوران اور نتائج کی تیاری کے مرحلے میں متعدد مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں جنہوں نے انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ جماعت کے مطابق بعض پولنگ اسٹیشنوں پر جعلی ووٹ ڈالے گئے، بیلٹ پیپرز پر غیر قانونی طور پر ٹھپے لگائے گئے، مسترد شدہ ووٹوں کو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے حق میں شمار کیا گیا، امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنوں سے نکال دیا گیا، فارم 24 فراہم نہیں کیے گئے اور بعد ازاں آر او آفس میں نتائج مرتب کرتے وقت عوامی مینڈیٹ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ مرکزی مسلم لیگ کا کہنا ہے کہ ان مبینہ بے ضابطگیوں میں بعض مقامات پر پولیس اور انتظامیہ کی جانبداری کا تاثر بھی سامنے آیا، جس کے باعث انتخابی عمل کی غیر جانبداری متاثر ہوئی۔ جماعت نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام الزامات کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی اور ری پولنگ کے ذریعے عوام کے ووٹ کے تقدس کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ انتخابی سیاست میں دھاندلی کے الزامات کوئی نئی روایت نہیں۔ آزاد جموں و کشمیر سمیت پاکستان کے مختلف انتخابات میں ماضی میں بھی متعدد جماعتیں نتائج پر اعتراضات اٹھاتی رہی ہیں۔ کبھی کامیاب امیدواروں کے خلاف انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے اور کبھی ہارنے والے امیدواروں نے نتائج کو چیلنج کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی اصلاحات اور انتخابی نظام پر اعتماد کی بحالی کا مطالبہ مسلسل کیا جاتا رہا ہے۔
انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے صرف پولنگ کے دن انتظامات کافی نہیں ہوتے بلکہ نتائج کی تیاری، فارموں کی فراہمی، ووٹوں کی گنتی، ریکارڈ کی حفاظت اور شکایات کے بروقت ازالے کا مؤثر نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جدید جمہوری نظاموں میں انتخابی عمل کی ہر سطح پر شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی، مؤثر نگرانی اور آزاد شکایتی نظام کو اہمیت دی جاتی ہے تاکہ نتائج پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

اس تمام صورتحال کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اعتراضات قانونی اور آئینی فورمز پر اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ جمہوری معاشروں میں انتخابی تنازعات کا حل احتجاج یا تصادم کے بجائے آئینی اداروں، عدالتوں اور الیکشن کمیشن کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے، اور یہی جمہوری روایت کو مضبوط بناتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر یہ احساس اجاگر کیا ہے کہ انتخابی اصلاحات اب محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ جمہوری ضرورت بن چکی ہیں۔ پولنگ عملے کی مزید تربیت، انتخابی قوانین پر سختی سے عمل، نتائج کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، تمام انتخابی فارموں کی بروقت فراہمی، شکایات کے فوری ازالے اور ریاستی اداروں کی غیر جانبداری کو مزید مؤثر بنائے بغیر انتخابی تنازعات کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اس یقین کا نام ہے کہ ہر ووٹ دیانت داری سے شمار ہوگا، ہر امیدوار کو برابر کا موقع ملے گا اور ہر شکایت کو قانون کے مطابق سنا جائے گا۔ یہی اعتماد ریاست اور عوام کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر انتخابی عمل شفاف ہوگا تو نتائج خواہ کسی کے حق میں ہوں، انہیں قبول کرنا آسان ہوگا۔ لیکن اگر انتخابی شفافیت پر مسلسل سوالات اٹھتے رہیں تو نہ صرف سیاسی کشیدگی بڑھے گی بلکہ عوام کا جمہوری اداروں پر اعتماد بھی متاثر ہوگا۔

لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، الیکشن کمیشن، ریاستی ادارے، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی مل کر ایسے انتخابی نظام کے لیے کام کریں جس پر کسی بھی جماعت یا امیدوار کو اعتراض کی گنجائش کم سے کم ہو۔ مضبوط جمہوریت کی بنیاد مضبوط انتخابی نظام ہے، اور مضبوط انتخابی نظام کی بنیاد شفافیت، غیر جانبداری، قانون کی حکمرانی اور عوام کے ووٹ کے غیر متزلزل احترام پر قائم ہوتی ہے۔