طلعت بٹ
آزاد کشمیر 13 ہزار مربع کلومیٹر کا یہ خطہ پاکستان کی شہ رگ ہے. آزاد کشمیر الیکشن میں اس بار بھی وہی ہوا جو دیہائیوں سے ہوتا آ رہا ہے. ووٹ پڑے، نتیجہ آیا، اور ساتھ ہی واویل? شروع ہو گیا. پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا پھڈا اور ایک دوسرے پر الزام تراشیاں، پریس کانفرنسز، اور احتجاج! دھاندلی کا الزام نئی بات نہیں ہر الیکشن میں ہارنے والی پارٹی کہتی ہے "دھاندلی ہوئی" جیسے پیپلز پپلز پارٹی کہتی ہے الیکشن میں حکومتی مشینری کا استعمال ہوا ہے اور مسلم لیگ ن کہتی ہے پیپلز پارٹی نے پیسے اور برادری کا کھیل کھیلا ہے. بیچاری عوام بیچ میں کھڑی سوچتی ہے" کہ ووٹ تو ہم نے دیا تھا، مگر فیصلہ کون کر رہا ہے؟ اس پھڈے سے سب سے زیادہ نقصان "آزاد کشمیر کے مقدمے" کا ہو رہا ہے. دنیا جب دیکھتی ہے کہ کشمیر کی اسمبلی میں بھی دھاندلی کے نعرے ہیں، لہذا یہ خود آزاد نہیں تو کشمیر کو کیا آزاد کروائیں گے؟ کیا ہم دشمن کو یہ موقع دیں گے؟ الیکشن کمیشن کہاں ہے؟ فارم 45 دکھائیں، ویڈیو ثبوت لائیں. الزام نہیں، ثبوت سے بات کریں. اگر دھاندلی ہوئی ہے تو قانونی راستہ اپنائیں، سڑکیں بند مت کریں. لیڈران کہاں ہیں ووٹ کے لیے ایک تھے مگر اب کشمیر کے لیے ایک کیوں نہیں؟ خدا کے لیے لڑنا ہے تو غربت سے لڑو، بیروزگاری سے لڑو، انڈیا کے بیانیے سے لڑو. آپس میں مت لڑو. ہار کو دل سے تسلیم کرنا سیکھیں. جیت کو عاجزی سے نبھانا سیکھیں. اسمبلی میں 80% وقت کشمیر کے مقدمے پر لگے، 20% وقت ترقی پر، مسلم لیگ ن بھی ہماری ہے۔ اور پی پی پی بھی ہماری ہے دونوں نے کشمیر کے لیے قربانیاں دی ہیں. مگر یاد رکھیں کرسی آتی جاتی رہتی ہے، کشمیر کا مقدمہ نہیں رکتا. اس لیے اے قائدین! پھڈا بند کریں. عوام کا ووٹ مقدس ہے. اس کی توہین مت کریں. ورنہ تاریخ لکھے گی کہ جب کشمیر کو آپ کی ضرورت تھی، مگر افسوس! عدالت میں تاریخ پر تاریخ پڑتی ہے. سیاستدان جنازے پر آ کر فوٹو کھنچوا کر چلے جاتے ہیں. اگر اپنا گھر انصاف نہ دے گا تو باہر والا کیا دے گا؟ کشمیر 25 کروڑ پاکستانیوں کی شہ رگ ہے. پاکستان کی حکومت، عدلیہ، میڈیا سب کی ذمہ داری ہے کہ آزاد کشمیر میں قانون کی حکمرانی ہو. مظلوم کو فوری ریلیف ملے. قاتل کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے. ورنہ دنیا کہے گی "یہ اپنے گھر میں انصاف نہیں کر سکتے، کشمیر کا مقدمہ کیا لڑیں گے؟ مقبوضہ کشمیر میں 70 سال سے ظلم ہو رہا ہے. قراردادیں ہیں، رپورٹیں ہیں، ویڈیوز ہیں. مگر انصاف صفر کیوں؟ کیونکہ دنیا طاقت دیکھتی ہے، مظلوم نہیں. اس لیے جب تک ہم خود طاقتور نہیں بنیں گے، دنیا ہماری فریاد نہیں سنے گی. جب تک ہم آپس میں متحد نہیں ہوں گے، ہمیں کوئی انصاف نہیں دے گا. جب تک ہم ووٹ برادری اور پیسے پر دیں گے، ہمیں نمائندے ایسے ہی ملیں گے. جب ہم قانون ہاتھ میں لیں گے، قانون ہمیں انصاف نہیں دے گا۔ انصاف قلم سے، اتحاد سے، آواز سے ملے گا. مظفرآباد اور راولا کوٹ میں ہونے والے پر تشدد واقعات کا 30 دن میں فوری عدالتی کمیشن بننا چاہئے اور صحیح فیصلہ ہونا چاہئے. سیاسی مداخلت ختم ہونی چاہئے. جب تک قاتل جیل میں نہ ہو، یہاں مظفرآباد سے لے کر میرپور، باغ سے لے کر پونچھ، نیلم سے لے کر کوٹلی تک ہر پتھر گواہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے آزادی کے لیے کیا کچھ نہیں سہا! تو کیا ہم نے اس قربانی کا حق ادا کیا؟ آج سب سے بڑا ظلم بیروزگاری ہے. آزاد کشمیر کا نوجوان سب سے زیادہ پڑھا لکھا مگر سب سے زیادہ مایوس بھی ہے. میرپور کا نوجوان دبئی، سعودیہ، یورپ. باغ کا استاد کنٹریکٹ پر، اور پونچھ کا انجینئر رکشہ چلا رہا ہے. کیونکہ یہاں صنعت نہیں.IT پارک نہیں. سیاحت کا نظام نہیں. ہر سال بجٹ میں روزگار کا وعدہ ہوتا ہے، اسمبلی میں تقریریں ہوتی ہیں، مگر نوکری سفارش والے کو ملتی ہے. یہ آزاد کشمیر کے نوجوان کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی ہے. ہسپتال میں دوائی نہیں. جنت کا ٹکڑا ہے مگر سردیوں میں 6 مہینے لینڈ سلائیڈنگ سے بند. باغ اور حویلی میں زلزلے کے 20 سال بعد بھی بہت سے سکول خستہ حالی کا شکار ہیں. سدھنوتی اور کوٹلی کے لوگ پانی کے بحران سے دو چار ہیں گرمی میں ٹینکر کا انتظار؟ منگلا ڈیم سے اربوں کی کمائی، مگر میرپور کی یونیورسٹی اور ہسپتال آج بھی بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہیں. فنڈ آتا ہے ٹینڈر ہوتا ہے افتتاح کی تختی لگتی ہے اور کام؟ صرف فائل میں رہ جاتا ہے. الیکشن آتے ہیں تو PPP، مسلم لیگ ن، PTI سب جلسوں میں گالیاں، ٹی وی پر پریس کانفرنس، اسمبلی میں ہنگامہ 6 مہینے حکومت گراؤ، 6 مہینے حکومت بناؤ. اور اس دوران مقبوضہ کشمیر پر قرارداد کب پاس ہو؟ نوجوان کے لیے پالیسی کب بنے؟ کسی نے نہیں پوچھا. یہ سب سے بڑی زیادتی ہے "کشمیر کے مقدمے کے ساتھ! عدالت میں تاریخ پر تاریخ. محکمے میں کام کے لیے "چائے پانی" اگر یہی حال رہا تو "آزاد" نام کا کیا فائدہ؟ اس سب کے باوجود آزاد کشمیر کی عوام زندہ دل ہے. نیلم کی ماں اپنے بیٹے کو فوج میں بھیج کر کہتی ہے "وطن پر قربان ہو جانا. میرپور کا تاجر چندہ اکٹھا کر کے یتیم بچوں کو دیتا ہے! باغ کا استاد بغیر تنخواہ کے بھی بچوں کو پڑھاتا ہے! پونچھ کا نوجوان سوشل میڈیا پر 24 گھنٹے مقبوضہ کشمیر کے لیے آواز اٹھاتا ہے! یہی حوصلہ ہماری اصل طاقت ہے. اسکے ھل کیلئے ہر ضلع میں IT زون سیاحت کو صنعت کا درجہ دینا ہو گا. ہر ترقیاتی کام کیلئے بورڈ بنے. کتنا بجٹ، کتنا خرچ، کب مکمل. نیلم روڈ، مظفرآباد رنگ روڈ، میرپور میڈیکل کالج کیلئے خصوصی فنڈز کو ترجیح دی جائے. ہر تحصیل میں معیاری ہسپتال اور یونیورسٹی کیمپس ہو جہاں استاد اور ڈاکٹر کو میرٹ پر بھرتی کیا جائے. وزیراعظم آفس میں ایک مضبوط سیل ہو جو ہر ماہ دنیا میں کانفرنس کے زریعے مقبوضہ کشمیر کے لیے آواز اٹھائے. الیکشن کے بعد سب ایک میز پر بیٹھ کر "کشمیر ایجنڈا" بنائیں. کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہو نیب آزاد کشمیر کو فعال کریں. زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہر ضلع میں ریسکیو 1122 کا قیام عمل میں لایا جائے. آزاد کشمیر کے منتخب نمائندو! آپ کو ووٹ "کرسی" کے لیے نہیں ملا ووٹ "ذمہ داری" کے لیے ملا ہے. تاریخ آپ سے پوچھے گی تم نے مظفرآباد کے یتیم کا کے لیے کیا کیا؟ تم نے نیلم کے مریض کے لیے کیا کیا؟ تم نے میرپور کے نوجوان کو کیا دیا؟ تم نے مقبوضہ کشمیر کے لیے کیا؟اگر جواب "کچھ نہیں" ہوا تو یاد رکھو. عوام بہت صبر کر لیتی ہے۔ مگر جب بولتی ہے تو کرسیاں ہل جاتی ہیں.آزاد کشمیر صرف ایک انتظامی یونٹ نہیں. یہ 25 کروڑ پاکستانیوں کی دعا ہے. یہ مقبوضہ کشمیر کے 2 کروڑ لوگوں کی آخری امید ہے. اس امید کو زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے. اللہ آزاد کشمیر کو حقیقی معنوں میں آزاد، خوشحال اور مضبوط بنائے۔ آمین۔