پاکستان کی باہمت اور کم عمر سماجی کارکن علینا اظہر نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرتے ہوئے بنکاک میں منعقدہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک تقریب میں "گلوبل ایڈووکیٹ آف پیس ایوارڈ" اپنے نام کر لیا۔
عالمی سطح پر پذیرائی
یہ اعزاز علینا اظہر کو بین الاقوامی سماجی تنظیم "وائس فار رائٹس" کی جانب سے ان کی غیر معمولی سماجی خدمات اور پسماندہ طبقات کی آواز بننے کے عزم کے اعتراف میں دیا گیا۔ علینا نے محض 11 سال کی عمر میں فلاحی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور اب وہ "آسرا پاکستان" اور "آسرا ترکی" جیسی تنظیموں کی بانی و سرپرست ہیں۔
فلاحی خدمات کا دائرہ
ان کی تنظیمیں درج ذیل شعبوں میں سرگرم ہیں:
کچی آبادیوں میں خواتین کی مدد
اسکول و یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم کا فروغ
غریب و مستحق خاندانوں کے لیے فنڈ ریزنگ
بزرگ شہریوں کی نگہداشت
استنبول میں شامی مہاجرین کی معاونت
ماضی میں اعزازات
علینا اظہر کی خدمات کا اعتراف اس سے قبل بھی کیا جا چکا ہے:
2019 میں "لیڈی ڈیانا ایوارڈ" سے سرفراز
آسٹریلین ہائی کمیشن اور لِٹل آرٹ آرگنائزیشن کی جانب سے "25 انڈر 25" میں شامل
انہوں نے استنبول بلگی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں بیچلر ڈگری حاصل کی
ایوارڈ وصولی کے موقع پر جذباتی اظہار
ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد علینا اظہر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"میرے لیے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ مجھے گلوبل ایڈووکیٹ آف پیس تسلیم کیا گیا۔ پاکستان کا پرچم پہن کر یہ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے میں دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ میں امن کی عالمی سفیر ہوں کیونکہ میں ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتی ہوں جو جرأت اور امن کا علمبردار ہے۔ یہ اعزاز میں اپنے وطن کے عوام کے نام کرتی ہوں۔"
نتیجہ
علینا اظہر کی یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے حوصلہ افزا مثال ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر ملک کی مثبت تصویر اجاگر کرنے کا باعث بھی بن رہی ہے۔ ان کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عمر چھوٹی ہو یا بڑی، نیت اور جذبہ بڑا ہونا چاہیے۔