فرانس کے جنوبی گاؤں "گولت" میں شادی کی تقریب اس وقت المناک سانحہ میں تبدیل ہو گئی جب نامعلوم مسلح افراد نے دلہن پر فائرنگ کر کے اسے موقع پر ہی ہلاک کر دیا، جبکہ دولہا اور ایک 13 سالہ بچہ شدید زخمی ہو گئے۔
واقعے کی تفصیلات:
واقعہ اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے پیش آیا۔شادی کی تقریب کے بعد نیا جوڑا گاڑی میں سوار ہو کر روانہ ہو رہا تھا۔اسی دوران ایک گاڑی نے ان کا تعاقب کیا اور آگے آ کر راستہ روک لیا۔نقاب پوش حملہ آور گاڑی سے نکلے اور مختلف اقسام کے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی۔
نتائج:
27 سالہ دلہن موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔دولہا اور 13 سالہ بچہ شدید زخمی ہو کر اسپتال منتقل کیے گئے۔ایک حملہ آور فائرنگ کے دوران ہلاک ہوا، تاہم دیگر افراد پیدل فرار ہو گئے۔
تحقیقات جاری:
فرانسیسی پراسیکیوٹر فلورینس گالتیے کے مطابق:"پولیس نے واقعے کی تفتیش قتل اور اقدام قتل کے ساتھ ساتھ منظم مجرمانہ گروہ کے تناظر میں شروع کر دی ہے۔"آٹوپسی رپورٹ رواں ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔جائے وقوعہ سے ثبوت جمع کیے جا رہے ہیں جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
مقامی ردعمل:
گولت کے میئر، ڈیڈیے پیریلو نے فرانس کے ایک چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"یہ گاؤں ہمیشہ پرامن رہا ہے، یہاں ایسا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اب صدمے کے بعد پورا گاؤں غم اور غصے میں ہے۔"
مزید فائرنگ کا واقعہ:
اسی رات، نزدیکی شہر آویگنون میں ایک علیحدہ فائرنگ کے واقعے میں ایک اور شخص ہلاک ہوا۔حکام کے مطابق فی الحال ان دونوں واقعات کے درمیان تعلق کی کوئی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
تجزیہ:
یہ واقعہ فرانس میں منظم جرائم، اسلحے کی دستیابی اور سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر سامنے لے آیا ہے۔ شادی جیسی خوشیوں سے بھری تقریب کا اس طرح خونی انجام فرانسیسی عوام اور حکومت دونوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔