اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی قبل از گرفتاری ضمانت میں 22 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو اس مدت کے دوران کسی بھی گرفتاری سے روک دیا ہے۔
عدالت کی کارروائی:
کیسز کا تعلق 26 نومبر 2022 کے احتجاجی مظاہروں سے ہے۔مجموعی طور پر 229 ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ڈیوٹی جج طاہر عباس سپرا نے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدم دستیابی کے باعث سماعت کی۔
عدالت میں پیشی:
عدالت میں پیش ہونے والے رہنما:
سیمابیہ طاہر
زرتاج گل
مشعال یوسفزئی
سلمان اکرم راجا
راجا بشارت
عمیر نیازی
شیر علی ارباب
شہرام ترکئی
علی بخاری
رؤف حسن
نعیم پنجوتھا
عالیہ حمزہ
داوڑ خان
فضل محمد خان
اور دیگر متعدد رہنما
حاضری سے استثنا کی درخواست دینے والے:
بشریٰ بی بی
عمر ایوب
شہریار آفریدی
ایمان وسیم
مقدمات کی تفصیل:
کیسز مختلف تھانوں میں درج ہیں، جن میں کراچی کمپنی، رمنا، سیکریٹریٹ، ترنول اور دیگر شامل ہیں۔عدالت نے فریقین کو ہدایت دی کہ اگلی سماعت (22 جولائی) پر مکمل دلائل پیش کیے جائیں۔
ایم این اے لطیف چترالی کی ضمانت خارج:
عدالت نے پی ٹی آئی ایم این اے عبدالطیف چترالی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔جج کا مؤقف تھا کہ:"عبدالطیف چترالی 9 مئی کیس میں سزا یافتہ ہیں اور تاحال عدالت کے سامنے سرنڈر نہیں کیا، قانون سے مفرور شخص کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔"وکیل صفائی نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، مگر عدالت نے کہا:"اب درخواست واپس نہیں لی جا سکتی۔"